وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ کسی کی بیماری کا مذاق نہیں اڑایا جائے گا اور اگر کوئی واقعی بیمار ہے تو اس کا علاج ہونا چاہیے، تاہم اگر کوئی بیماری کو بنیاد بنا کر سزاؤں میں معافی چاہتا ہے تو وہ یہ خیال ترک کر دے، وہی ہوگا جو جیل رولز اجازت دیں گے۔
ریلوے اسٹیشن پر پلیٹ فارم نمبر 4 اور 5 کی اپ گریڈیشن اور افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، خصوصاً ٹریک کی بحالی سب سے بڑا مسئلہ ہے، تاہم حکومت وسائل کی کمی کا رونا نہیں رو رہی بلکہ اہداف مقرر کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن افسران کو ٹارگٹس دیے گئے ہیں انہیں 30 جون تک مکمل کرنا ہوگا، بصورت دیگر وہ اپنی نشست پر رہنے کے حقدار نہیں ہوں گے۔
حنیف عباسی نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے ٹریک کی بحالی کا خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قازقستان اور ازبکستان کے صدور کے دوروں کے دوران اہم پیش رفت ہوئی۔ ازبکستان کے ساتھ معاہدہ کیا گیا جبکہ قازقستان کے ساتھ بھی رابطہ بڑھایا گیا ہے۔ چمن، قندھار، ہرات اور ترکمانستان تک 840 کلومیٹر ریلوے لنک کا ہدف حاصل کرنے سے پاکستان سینٹرل ایشیا سے منسلک ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ تافتان بارڈر پر ایران کے ساتھ چلنے والی مال گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، اگر سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوتی تو مزید مال بردار ٹرینیں چلائی جا سکتی تھیں۔ ایم ایل ون منصوبہ ایک سنہری موقع تھا جو ضائع ہو گیا، تاہم کراچی تا روہڑی 480 کلومیٹر ٹریک کے لیے ایشین بینک سے 2 ارب ڈالر کی منظوری مل چکی ہے اور جولائی کے اختتام تک اس پر کام شروع کر دیا جائے گا۔
وزیر ریلوے نے بتایا کہ پیپلز ٹرین پورے کوئٹہ کو کور کرے گی اور اس کی فنڈنگ بلوچستان حکومت کرے گی۔ روہڑی سے کراچی کے درمیان فریٹ ٹرینوں کی تعداد 8 سے بڑھا کر 10 کر دی گئی ہے جبکہ روزانہ 12 ٹرینوں کا ہدف مقرر ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ راولپنڈی ریلوے اسپتال کے علاوہ دیگر اسپتالوں کی حالت خراب ہے، جنہیں آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے۔ ہزارہ ٹرین کو اپ گریڈ کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر ٹرینوں کی بہتری پر بھی کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ٹرینیں دسمبر 2026 تک اپ گریڈ کر دی جائیں گی۔
حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان ریلوے اب اس قابل ہو چکی ہے کہ کوچز اور ویگنز برآمد کر سکے۔ نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا اور چلی سے رابطے کیے گئے ہیں اور ٹو او ٹو پالیسی کے تحت کوچز اور ویگنز فراہم کی جائیں گی۔ این ایل سی چار ٹرینیں ریلوے سے تیار کروا رہی ہے جبکہ آٹو موبائل اور خوردنی تیل کی ترسیل کے لیے بھی نئے ڈیزائن تیار کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایم ایل ٹو منصوبہ این ایل سی اور ڈی پی ورلڈ کی معاونت سے ڈھائی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے مکمل کیا جائے گا۔ ریلوے کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے ایف ڈبلیو او سے معاہدہ ہو چکا ہے اور ہر اسٹیشن کو اسمارٹ اور محفوظ بنایا جائے گا۔ ویگنز کی اوور لوڈنگ روکنے کے لیے 14 ویو برجز نصب کیے جائیں گے۔
وزیر ریلوے کے مطابق لاہور ریلوے اسٹیشن کی تزئین و آرائش پر بھی کام جاری ہے، جس کے لیے 2 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں 1875 ریلوے کراسنگ بغیر پھاٹک کے ہیں جو متعلقہ صوبوں کی ذمہ داری ہے، تاہم خیبرپختونخوا حکومت نے بھی بعض منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سفاری ٹرین کی اپ لفٹنگ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور تھر میں بھی سفاری ٹرین کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔ ملازمین کی تنخواہوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پہلے دو دو ماہ تاخیر ہوتی تھی، اب تنخواہیں چار سے پانچ دن میں ادا کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلوے کرائے پہلے ہی کم ہیں اور ادارے کی بہتری کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رہے گا۔





