باجوڑ ملنگی پوسٹ حملہ: خودکش بمبار افغان شہری نکلا، سرحد پار روابط کے شواہد سامنے آگئے

0
578

باجوڑ: پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے مبینہ استعمال سے متعلق مزید شواہد منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ 16 فروری 2026 کو باجوڑ کی ملنگی پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث دہشت گرد کی شناخت احمد عرف قاری عبداللہ ابوذر کے نام سے ہوئی ہے، جو افغانستان کے صوبہ بلخ کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق حملہ آور ماضی میں طالبان کی مبینہ اسپیشل فورسز کا حصہ بھی رہ چکا تھا۔

یاد رہے کہ اس خودکش حملے میں 11 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 2 شہری جان کی بازی ہار گئے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں ہونے والے متعدد دہشت گرد حملوں کے تانے بانے سرحد پار افغانستان سے ملتے ہیں۔ 6 فروری 2026 کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ہونے والے خودکش حملے کے مبینہ حملہ آور نے بھی افغانستان سے تربیت حاصل کی تھی۔ اسی طرح 11 نومبر 2025 کو اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس اور 24 نومبر کو ایف سی ہیڈکوارٹرز پشاور پر حملوں میں ملوث عناصر کے افغانستان سے تعلق کے شواہد سامنے آئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق 10 اکتوبر کو ڈیرہ اسماعیل خان پولیس ٹریننگ سینٹر اور 10 نومبر کو وانا کیڈٹ کالج پر حملوں میں بھی افغان شہریوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ 19 اکتوبر 2025 کو جنوبی وزیرستان میں گرفتار ہونے والا خودکش بمبار نعمت اللہ ولد موسیٰ جان بھی افغان صوبہ قندھار کا رہائشی بتایا گیا تھا۔

مزید برآں 4 مارچ 2025 کو بنوں کینٹ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان سے ہونے کا انکشاف کیا گیا، جبکہ 11 مارچ 2025 کو جعفر ایکسپریس حملے کے مبینہ سہولت کاروں کے افغانستان میں موجود عناصر سے رابطوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ 3 ستمبر 2024 کو گرفتار خودکش بمبار روح اللہ کے اعترافی بیان کو بھی سرحد پار روابط کا ثبوت قرار دیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بعض دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر ہونے کے الزامات نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے افغان حکام کی جانب سے ان الزامات کی تردید بھی کی جاتی رہی ہے۔

سیکیورٹی امور کے تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان مؤثر تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ ہی خطے میں پائیدار امن کے قیام کی کلید ثابت ہو سکتی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا