شناختی کارڈ بلاک کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، سپریم کورٹ

0
352

سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم غیر قانونی قرار دے دیا۔

تین صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس منیب اختر نے جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ شناختی کارڈ کوئی لگژری نہیں بلکہ عام زندگی گزارنے کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا کل کو رقم کی واپسی کے لیے بجلی اور پانی کے کنکشن کاٹنے کا حکم بھی دیا جائے گا؟

فیصلے میں کہا گیا کہ کسی شہری کو شناختی کارڈ سے محروم کرنا اس کے بنیادی حقِ زندگی سے محرومی کے مترادف ہے۔ ضابطہ دیوانی (سی پی سی) کے سیکشن 51 کے تحت شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے سی پی سی میں کی گئی ترمیم کا اطلاق صوبہ سندھ پر نہیں ہوتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ واضح قانونی اختیار کے بغیر کوئی بھی عدالت کسی شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم نہیں دے سکتی۔

واضح رہے کہ 2016 میں ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف رقم کی ادائیگی کی ڈگری جاری کی تھی۔ رقم ادا نہ کرنے پر ٹرائل کورٹ نے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیا تھا، جسے سندھ ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا، تاہم اب سپریم کورٹ نے اسے کالعدم قرار دے دیا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا