اسحاق ڈار کے عالمی رہنماؤں سے رابطے، مشرق وسطیٰ میں امن پر زور

0
489

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ایران سمیت مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور عالمی تنظیموں کے سربراہان سے ٹیلیفونک رابطے کیے اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے مشاورت کی۔

ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے دولت مشترکہ کی سیکریٹری جنرل شرلی بوچوی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث وہ لندن میں ہونے والے کامن ویلتھ منسٹریل ایکشن گروپ اور دولت مشترکہ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔

انہوں نے لندن میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو اپنی نمائندگی کا اختیار دے دیا اور 9 مارچ کو منائے جانے والے یوم دولت مشترکہ کے موقع پر تمام رکن ممالک کو مبارک باد بھی دی۔

ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے ملائیشیا کے وزیر خارجہ داتو سری محمد حاجی حسن سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور امن و استحکام کی امید کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ بھی قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

اسحاق ڈار نے متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید النہیان سے بھی گفتگو کی جس میں بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور خطے میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

اس موقع پر اسحاق ڈار نے حالیہ حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات اور اس کے عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔

ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدوی سے بھی رابطہ کیا۔ گفتگو کے دوران علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ جی سی سی کے سیکریٹری جنرل نے خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کی مضبوط شراکت داری کو سراہا۔

ایرانی وزیر خارجہ سے بھی گفتگو
اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں حالیہ علاقائی پیش رفت اور خطے کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بھی قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ان تمام رابطوں میں خطے میں کشیدگی کم کرنے، مکالمے کو فروغ دینے اور امن و استحکام کے لیے تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا