ایرانی صدر نے امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

0
812

واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی نئی حکومت کے صدر نے امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے، تاہم اس پر فیصلہ آبنائے ہرمز کے کھلنے سے مشروط ہوگا۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نئی قیادت اپنے پیشروؤں کے مقابلے میں کم شدت پسند اور زیادہ سمجھدار ہے اور اس نے امریکا سے جنگ بندی کی خواہش ظاہر کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اس درخواست پر اسی صورت غور کرے گا جب آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل کر محفوظ اور آزاد ہو جائے، بصورت دیگر کارروائیاں جاری رہیں گی۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایران کی اعلیٰ قیادت اور دیگر اہم شخصیات جاں بحق ہوئیں، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔

دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے یورپی کونسل کے صدر انٹونیو کوسٹا سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا تھا کہ اگر امریکا اور دیگر فریقین مستقبل میں حملے نہ کرنے کی ٹھوس ضمانت دیں تو ایران کارروائیاں روکنے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کا واحد راستہ یہ ہے کہ حملہ آور اپنی جارحانہ کارروائیاں بند کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا، تاہم اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔

مسعود پزشکیان نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران ہمسایہ ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، لیکن ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو ہدف بنانے کے سوا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہتا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا