محسن نقوی بہاولپور سےانتخابی امیدوار ہیں یا شرارت جاری ہے؟

0
1364

تحریر و تحقیق: مسعود چوہدری

ملک اقبال چنڑ مرحوم کیساتھ ایک عرصہ سے محبت و احترام کا تعلق رہا ہے۔ جب وہ صوبائی وزیر برائے خصوصی تعلیم، جیل خانہ جات و کوآپریٹو رہے اور راقم صحافتی امور کی انجام دہی کے لیے اکثر و بیشتر انکے ہمراہ پر تکلف گپ شپ کیا کرتا اور وہ اپنی سادگی و برجستگی میں بہت سی ایسی مشکل خبروں کی تصدیق یا تردید کر دیا کرتے جنکے بارے بڑے بڑے طاقتور وزراء بات کرنے سے کتراتے تھے۔ گو کہ اسلام آباد آنے کے بعد انکے ساتھ ملاقاتوں کا لاہور والا سلسلہ تو نہیں رہا لیکن محبت و احترام آج بھی قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انکے دنیا سے چلے جانے کے بعد سے اب تک سمجھ ہی نہ پایا کہ تعذیت کسطرح اور کس کیساتھ کی جائے۔ گو کہ ہم صحافی عوامی طور پر تعذیت تو کر لیتے ہیں لیکن برسہا برس کا تعلق اگلی نسل میں منتقل کرنے میں اکثر ناکام رہتے ہیں۔ موجودہ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی ظہیر اقبال چنڑ میں اپنے والد کی جھلک باقاعدہ نظر آتی ہے لیکن اسے راقم کی نالائقی کہیں یا کچھ اور کہ تعذیت کے غرض سے بھی ملاقات نہ ہو سکی۔

اب طاقت کی راہداریوں میں خبر زیر گردش ہے کہ ہمارے سب کے ہردلعزیز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بہاولپور کے شہری حلقہ سے انتخاب لڑنے جا رہے ہیں۔ حلقہ میں پوسٹرز آویزاں کر دیے گئے ہیں اور کچھ کہنے والے کہتے ہیں کہ کیمپین پورے زور و شور سے جاری ہے جبکہ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ محسن نقوی کے نادرا بہاولپور دورہ کے درمیان کارکردگی کے تناظر میں جان بوجھ کر اس بات کو ہوا دی جا رہی ہے۔ گو کہ متعدد سوالات اپنی جگہ موجود ہیں لیکن سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا وفاقی وزیر داخلہ جیسے کلیدی عہدے پر فائز شخصیت کو ایک ضمنی الیکشن کے تنگ و تاریک گلی کوچوں میں اتارنا سیاسی دانش مندی ہے یا محض ایک آزمائش، جس کا نتیجہ انتہائ غیریقینی بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ شاید اپوزیشن کی جانب سے کی جانے والی طعن و تشنیع کو کسی نے دل پر لے لیا ہے، جبکہ دوسری جانب یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والے دنوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے صف بندی میں محسن نقوی کے انتخابی میدان میں فاتح ہونا انتہائ اہم ہو۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو ایک بات تو یقینی ہو جائے گی کہ مستقبل میں پیش بندی میں تبدیلی کی شنید اپنی جگہ موجود ہے۔

آنے والے دنوں کی بحث کو ایک جانب رکھتے ہوئے بتاتا چلوں کہ حلقہ NA168 بہاولپور کا شہری حلقہ ہے اور بہاولپور شہر کی سیاست کبھی بھی سادہ نہیں رہی، یہاں ووٹ بینک خاندانوں کی وراثت سے جڑا ہوتا ہے، برادری کے تعلقات فیصلہ کن ہوتے ہیں اور مقامی امیدوار کی موجودگی یا عدم موجودگی نتائج کا رخ بدل دیتی ہے۔ ملک اقبال چنڑ مرحوم نے 2024 میں ایک لاکھ بائیس ہزار تین سو دو ووٹ لے کر جو برتری حاصل کی تھی وہ محض پارٹی نشان کی مرہونِ منت نہیں تھی، اس کے پیچھے برسوں کی زمینی سیاست، ذاتی رابطے اور خاندانی اثر و رسوخ کارفرما تھا، یہ وہی اثاثہ ہے جو کہ ایک جانب اب انکے صاحبزادے ملک منیر اقبال چنڑ کے پاس بطور وراثت موجود ہے جبکہ دوسری جانب ظہیر اقبال چنڑ حاصل کردہ اپنی وراثت کی آبیاری مسلسل کر رہے ہیں۔ فی الحال تو ہم یہ مان کر چل رہے ہیں کہ محسن نقوی آزاد حیثیت میں انتخابی معرکہ میں اترنے جا رہے ہیں جہاں انہیں تمام جماعتوں کی متوقع حمایت حاصل ہوگی جسکے سبب انکا انتخاب قدرے آسان ہو جائے گا، لیکن سوال یہ بھی ہے کہ اگر مسلم لیگ ن اپنے ہی مرحوم رکن اسمبلی کے صاحبزادے کو ٹکٹ دیتی ہے یا محسن نقوی کو نظرانداز کر کے کسی بیرونی چہرے کو ٹکٹ دیتی ہے یا اس بات پر مصر ہو جاتی ہے کہ انکا اپنا انتخابی امیدوار میدان میں ہو گا اور وہ محسن نقوی کو کیوں اپنا ووٹ بنک حوالہ کریں تو انتخابی معرکہ نہ صرف انتہائ دلچسپ ہو سکتا ہے بلکہ نتائج پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس تناظر میں کیا مسلم لیگ ن کی مقامی تنظیم قیادت کے کسی بھی فیصلے کو دل سے قبول کرے گی؟ یا پھر خاموش ناراضی کی وہ لہر جنم لے گی جو بظاہر نظر نہیں آتی لیکن پولنگ ڈے پر ٹرن آؤٹ کی صورت میں اپنا اثر ضرور دکھاتی ہے۔ مسلم لیگ ن کے دیگر متوقع امیدواروں میں محمد بلیغ الرحمان کا نام بھی زیر گردش ہے، جو سابق گورنر پنجاب ہونے کے ناطے شہری بہاولپور کی نبض سے خوب واقف ہیں اور جنہوں نے 2008 اور 2013 میں مسلسل دو بار یہی نشست جیت کر یہ ثابت کیا تھا کہ وہ محض ایک وقتی الیکٹیبل نہیں بلکہ حلقے کی ایک مستقل سیاسی حقیقت ہیں۔ اسی صورتحال میں سعود مجید چوہدری اور عقیل نجم ہاشمی جیسے نام بھی ن لیگ کے ٹکٹ کے لیے تگ و دو کرتے بتائے جا رہے ہیں لیکن یہ دونوں چنڑ خاندان اور بلیغ الرحمان کے سیاسی قد کاٹھ کا مقابلہ کرتے دکھائی نہیں دیتے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سیاسی جماعتوں میں جانشینی کو ہی سیاسی وراثت قرار دیکر دنیا سے چلے جانے کے سبب خالی ہونے والی نشست بطور تحفہ دینے کی خاموش روایت موجود ہے۔

دوسری جانب محسن نقوی کا اپنا سیاسی بیانیہ ہے۔ وہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب رہ چکے ہیں، اس وقت سینیٹر اور وفاقی وزیر داخلہ ہیں اور ان کی سینیٹ کی مدت مارچ 2030 تک باقی ہے، یعنی وہ ایک محفوظ ایوانی نشست چھوڑ کر براہ راست عوامی مینڈیٹ کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں، جو بذات خود ایک جرات مندانہ اور غیرمعمولی فیصلہ ہو گا۔ وفاقی وزارتِ داخلہ کی حیثیت سے انہیں جو انتظامی رسائی اور میڈیا کوریج حاصل ہے وہ کسی بھی مقامی امیدوار کو میسر نہیں، اور بہاولپور کے تعلیم یافتہ متوسط طبقے، خصوصاً نوجوان اور کاروباری حلقوں میں انکی شخصیت ایک اصلاح پسند اور فیصلہ ساز رہنما کے طور پر مقبول بھی ہے۔ لیکن یہی وہ نکتہ ہے جہاں سیاسی تجزیہ کار محتاط رہتے ہیں، کیونکہ قومی سطح کی مقبولیت اور مقامی حلقے کی زمینی حمایت دو الگ الگ چیزیں ہیں، اور پاکستانی سیاست کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں بڑے بڑے وفاقی رہنما اپنے آبائی حلقوں سے باہر مقامی امیدواروں کے ہاتھوں شکست کھا چکے ہیں۔

بہاولپور کے اسی شہری حلقہ میں سمیع اللہ چوہدری کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، جنہوں نے گزشتہ عام انتخابات میں پچاس ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا تھا کہ تحریک انصاف کا ووٹ بینک شہری بہاولپور میں کمزور نہیں بلکہ ایک منظم اور فعال قوت کے طور پر موجود ہے۔ اگر پی ٹی آئی انہیں یا کسی اور مضبوط چہرے کو دوبارہ میدان میں اتارتی ہے تو مقابلہ یقیناً سہ رخی نہیں بلکہ اصل میں ن لیگ کے اندرونی امیدوار کے چناؤ پر منحصر ہو گا، کیونکہ اگر پارٹی چنڑ خاندان یا بلیغ الرحمان جیسے مقامی ناموں کو ترجیح دیتی ہے تو پی ٹی آئی کے مقابلے میں مضبوط دفاعی پوزیشن حاصل ہو سکتی ہے، لیکن اگر کسی بیرونی چہرے کو لایا جاتا ہے تو مقامی ناراضی خود پی ٹی آئی کے لیے کھلا میدان فراہم کر سکتی ہے۔

الیکشن کمیشن نے آج گیارہ اگست کو جو شیڈول جاری کیا ہے اس کے مطابق کاغذاتِ نامزدگی 17 سے 19 اگست تک جمع کروائے جائیں گے، حتمی امیدواروں کی فہرست چار ستمبر کو سامنے آئے گی اور انتخابی نشانات آٹھ ستمبر کو الاٹ ہوں گے، جبکہ پولنگ ستائیس ستمبر کو ہو گی۔ یہ وہ مختصر مگر فیصلہ کن وقفہ ہے جس میں مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کو یہ طے کرنا ہو گا کہ آیا وہ محسن نقوی جیسے طاقتور مگر غیرمقامی چہرے پر داؤ کھیلتی ہے یا پھر مرحوم اقبال چنڑ کی سیاسی وراثت کو روایت کے مطابق موقع فراہم کرتی ہے یا بلیغ الرحمان کے تجربے کو ترجیح دیتے ہوئے ایک محفوظ راستہ اختیار کرتی ہے۔یاد رہے کہ بلیغ الرحمان نے 2013 کے انتخابات میں بہاولپور نیشنل عوامی پارٹی کے امیدوار ملک فاروق اعظم ملک کو شکست دی تھی جنہوں نے بلیغ الرحمان کے حاصل کردہ تقریباً 88 ہزار ووٹ کے مقابلہ میں 65 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے۔ جبکہ انہیں فاروق اعظم ملک نے 2008 کا انتخاب پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر لڑا اور اس انتخاب میں بلیغ الرحمان نے تقریباً 55ہزار جبکہ انہوں نے 47 ہزار کے لگ بھگ ووٹ حاصل کیے۔ گو کہ فاروق اعظم ملک کے بارے کہا جاتا ہے کہ تین مرتبہ ممبر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر رہنے کے بعد آجکل سیاست سے ریٹائر ہو چکے ہیں لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ سیاست دان اگر ایک انتخاب سے دوسرے انتخاب تک ریٹائرمنٹ کا اعلان کر بھی دے تو بزرگ سیاستدان کے بجائے انتخابی معرکہ میں جوان سیاستدان بن کر ابھرنا باعث عزت و تکریم خیال کیا جاتا ہے۔ اگر محسن نقوی میدان میں اترے تو یقینی طور پر انکا دھڑا بھی انتخابات میں پر اثر کردار ادا کرنے کے لیے تیاری پکڑ سکتا ہے۔ یوں بظاہر آسان دکھنے والا انتخابی معرکہ در حقیقت سیاسی بساط کی تمام تر پیچیدگیاں اپنے اندر سمائے ہوئے ہے۔

بذاتِ خود راقم کی رائے میں اگر محسن نقوی واقعی میدان میں اترتے ہیں تو یہ ضمنی الیکشن محض ایک مقامی معرکہ نہیں رہے گا بلکہ اس کے نتائج مسلم لیگ ن کی داخلی حکمتِ عملی، جنوبی پنجاب میں پارٹی کی گرفت اور خود محسن نقوی کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے ایک اہم اشارہ ثابت ہوں گے۔ ملک اقبال چنڑ مرحوم جیسے زمینی سیاستدان کی خالی کردہ نشست پر اگر کوئی وفاقی وزیر کامیابی حاصل کرتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہو گا کہ اب پاکستانی سیاست میں انتظامی طاقت اور میڈیا رسائی بھی مقامی وراثت کا متبادل بن سکتی ہے، لیکن اگر ناکامی ہوتی ہے تو یہ پیغام اتنا ہی واضح ہو گا کہ بہاولپور جیسے حلقوں میں زمین کی سیاست آج بھی وزارتوں اور عہدوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ آنے والے چند ہفتے، خصوصاً ٹکٹوں کے اعلان کے بعد کی صورتحال، اس پورے منظرنامے کو واضح کر دیں گے۔ لیکن اگر یہ تمام باتیں نہ ہوئیں اور محسن نقوی کے آویزاں بینرز فقط ایک شرارت ہی ہوئ تو یہ کتنی سنگین شرارت ثابت ہو سکتی ہے اسکا اندازہ ڈر اور خوف کے سائے میں کرسی اقتدار پر براجمان ہونے والوں کے دل پر گزرتی قیامت کے دوران چیختی چنگھاڑتی خاموش آوازوں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا