ملک سندر شعیب ایڈووکیٹ
پاکستان کی سیاست میں احتجاج جمہوری عمل کا لازمی حصہ ہے، لیکن جب احتجاج دارالحکومت کی سڑکوں، شہریوں کی آمدورفت، کاروبار، تعلیم اور علاج معالجے کو متاثر کرنے لگے تو معاملہ محض سیاسی نہیں رہتا بلکہ آئینی اور قانونی بن جاتا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاج سے متعلق حالیہ فیصلہ اسی حساس توازن کو موضوع بناتا ہے۔ عدالت نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی ہے کہ سیاسی احتجاج کے لیے سرکاری وسائل اور سرکاری مشینری استعمال نہ ہو، جبکہ عوامی سڑکوں اور ایسی جگہوں پر قبضے یا رکاوٹ کو بھی قانونی حق قرار نہیں دیا جاسکتا جہاں سے شہریوں کی طبی اور تعلیمی سہولتوں تک رسائی متاثر ہو۔یہ فیصلہ بظاہر شہری حقوق، ریاستی وسائل اور سیاسی احتجاج کے درمیان ایک قانونی حد مقرر کرتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس حد کا اطلاق کس طرح اور کس کے خلاف ہوگا؟ پاکستان میں مسئلہ صرف قانون کی عدم موجودگی نہیں بلکہ قانون کے یکساں اور غیر جانب دار نفاذ کا بھی ہے۔ اگر ایک جماعت کے احتجاج پر ایک اصول لاگو ہو اور دوسری جماعت کو اسی نوعیت کی سرگرمی پر رعایت ملے تو عدالتی احکامات بھی عوامی اعتماد کا مسئلہ بن سکتے ہیں۔
آئین پاکستان کا آرٹیکل 16 شہریوں کو پُرامن اور غیر مسلح اجتماع کا حق دیتا ہے۔ یہ حق جمہوریت کی بنیادی ضرورت ہے۔ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج، سیاسی مطالبات کے لیے ریلی، جلسہ اور دھرنا جمہوری سیاست میں غیر معمولی سرگرمیاں نہیں۔ لیکن یہ حق مطلق بھی نہیں۔ آئین عوامی نظم کے مفاد میں قانون کے ذریعے معقول پابندیوں کی اجازت دیتا ہے۔یہاں اصل بحث ’’احتجاج یا پابندی‘‘ کی نہیں بلکہ احتجاج اور دوسرے شہریوں کے حقوق کے درمیان توازن کی ہے۔اگر ایک سیاسی جماعت اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کرتی ہے تو اسے عوام کو متحرک کرنے اور حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالنے کا حق ہے۔ لیکن اس حق کی حدود وہاں ختم ہوجاتی ہیں جہاں کسی دوسرے شہری کو ہسپتال پہنچنے، کاروبار کرنے، تعلیم حاصل کرنے یا آزادانہ سفر کرنے سے غیر قانونی طور پر روکا جائے۔ اسی طرح حکومت کو بھی یہ اختیار نہیں مل جاتا کہ وہ ہر بڑے احتجاج کو امن و امان کا خطرہ قرار دے کر سیاسی اختلاف کو محدود کردے۔یہاں حکومت اور اپوزیشن دونوں سے سوال بنتا ہے۔
اپوزیشن سے سوال یہ ہے کہ کیا اپنے سیاسی مطالبات منوانے کے لیے پورے شہر کو مفلوج کرنا ضروری ہے؟ اگر احتجاج کا مقصد عوامی حمایت حاصل کرنا ہے تو عام شہری کو مشکلات میں ڈالنے کی حکمت عملی کس حد تک مؤثر اور جمہوری ہوسکتی ہے؟حکومت سے سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی احتجاج کو روکنے کے لیے کنٹینر، گرفتاری، راستوں کی بندش اور سخت انتظامی اقدامات ہی واحد راستہ ہیں؟ اگر پرامن احتجاج کا حق آئین نے دیا ہے تو ریاست کی ذمہ داری صرف پابندی لگانا نہیں بلکہ ایسا قانونی اور محفوظ طریقہ فراہم کرنا بھی ہے جس میں احتجاج ہوسکے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے حالیہ مقدمے میں خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے درخواست کی قابلِ سماعت ہونے پر سوال اٹھایا اور مؤقف اختیار کیا کہ احتجاج سے متعلق قانونی فورم موجود ہونے کے باوجود ہائیکورٹ کے آئینی اختیار سے رجوع کیا گیا۔
یہ اعتراض قانونی بحث کا اہم حصہ ہے، کیونکہ کسی بھی عدالتی حکم کی قوت صرف اس کے مقصد سے نہیں بلکہ اس کے دائرۂ اختیار اور قانونی بنیاد سے بھی پیدا ہوتی ہے۔دوسری طرف عدالت کا مؤقف یہ ہے کہ اسلام آباد کے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اس کی آئینی ذمہ داری ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے ماضی میں عدالتی احکامات کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ بھی طلب کیا اور سرکاری وسائل کے سیاسی احتجاج میں استعمال پر سوال اٹھائے۔یہاں عدلیہ کے کردار پر بھی متوازن بحث ضروری ہے۔ عدالت کا کام سیاسی جماعت کے مطالبات کو درست یا غلط قرار دینا نہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ سیاسی سرگرمی آئین اور قانون کے مطابق ہے یا نہیں۔
سیاسی مطالبات کا فیصلہ سیاسی عمل، پارلیمان اور عوامی مینڈیٹ کے ذریعے ہونا چاہیے، جبکہ شہری حقوق کی خلاف ورزی یا قانون شکنی کی صورت میں عدالتیں قانونی حدود طے کرسکتی ہیں۔اس لیے عدالت کے فیصلے پر قانونی تنقید کو عدلیہ مخالف رویہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اسی طرح عدالت کی جانب سے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو سیاسی مداخلت قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ اصل معیار یہ ہونا چاہیے کہ عدالت اپنے دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے قانون کو کس حد تک غیر جانب داری سے نافذ کرتی ہے۔حالیہ صورتحال میں عدالت کا ایک دوسرا اقدام بھی اہم ہے۔ 16 ستمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کو مبینہ ہراسانی اور گرفتاری سے تحفظ دیتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز کو طلب کیا۔
عدالت کے سامنے درخواست گزاروں کی جانب سے چھاپوں اور گرفتاریوں کے الزامات پیش کیے گئے، جبکہ عدالت نے متعلقہ پولیس افسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔یہ پیش رفت اس بحث میں ایک اہم توازن پیدا کرتی ہے۔ ایک طرف عدالت کہتی ہے کہ سیاسی جماعتیں شہریوں کے حقوق پامال نہیں کرسکتیں، دوسری طرف ریاستی اداروں کو بھی سیاسی کارکنوں کے خلاف غیر قانونی کارروائی سے روکا جاتا ہے۔ یہی آئینی توازن جمہوریت کی بنیاد ہے۔اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حکومت ’’ریاستی رٹ‘‘ کے نام پر سیاسی اختلاف کو دبانے لگے یا اپوزیشن ’’جمہوری احتجاج‘‘ کے نام پر ریاستی نظم کو مفلوج کرنے لگے۔ دونوں رویے جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ تضاد بارہا سامنے آیا ہے۔
جو جماعت اقتدار میں ہوتی ہے وہ احتجاج کو امن و امان کا مسئلہ سمجھتی ہے اور جو جماعت اپوزیشن میں ہوتی ہے وہ اسی احتجاج کو جمہوری حق قرار دیتی ہے۔ اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ اکثر مؤقف بھی تبدیل ہوجاتا ہے۔ یہی دوہرا معیار قانون کی اخلاقی قوت کو کمزور کرتا ہے۔اگر آج کسی سیاسی جماعت کو سرکاری وسائل استعمال کرنے سے روکا جارہا ہے تو یہی اصول کل کسی دوسری جماعت پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ سرکاری گاڑی، سرکاری مشینری، پولیس، انتظامیہ اور سرکاری خزانہ کسی سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں۔ یہ عوامی وسائل ہیں اور ان کا استعمال آئینی و قانونی حدود میں ہونا چاہیے۔لیکن اس اصول کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر حکومت سیاسی احتجاج سے پہلے کارکنوں کی غیر ضروری گرفتاریاں شروع کردے، گھروں پر چھاپے مارے جائیں یا محض سیاسی سرگرمی کے خدشے پر شہریوں کو ہراساں کیا جائے تو ریاست کو بھی اپنے اقدامات کی قانونی بنیاد واضح کرنا ہوگی۔اسی لیے قانون کی حکمرانی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ مظاہرین قانون کی پابندی کریں۔ حکومت، پولیس اور انتظامیہ بھی قانون کی پابند ہیں۔احتجاج کرنے والی جماعتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ عوامی حمایت کسی سیاسی جماعت کو قانون سے بالاتر نہیں بناتی۔ لاکھوں افراد کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود کسی جماعت کو سڑک بند کرنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، ایمبولینس روکنے یا عام شہریوں کو زبردستی سفر سے روکنے کا حق حاصل نہیں ہوجاتا۔
اسی طرح حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ریاستی اختیار اسے سیاسی اختلاف ختم کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ سیاسی مخالفین کے خلاف انتظامی طاقت کا استعمال وقتی طور پر سڑکیں خالی کراسکتا ہے، لیکن سیاسی اختلاف کو ختم نہیں کرسکتا۔اس کا بہتر راستہ واضح قواعد ہیں۔اسلام آباد میں سیاسی احتجاج کے لیے مخصوص مقامات، اوقات، راستوں اور حفاظتی انتظامات پہلے سے طے ہونے چاہئیں۔ ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور اہم عوامی تنصیبات تک رسائی برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک پلان بنایا جائے۔ مظاہرین کو معلوم ہو کہ کن حدود میں احتجاج کی اجازت ہے اور انتظامیہ کو بھی معلوم ہو کہ کن قانونی وجوہ کی بنیاد پر پابندی لگائی جاسکتی ہے۔اس نظام کی کامیابی کے لیے ایک اور شرط ضروری ہے: قانون کا یکساں اطلاق۔اگر ایک جماعت سڑک بند کرے تو کارروائی ہو اور دوسری جماعت ایسا کرے تو نظرانداز کردیا جائے، تو مسئلہ احتجاج نہیں رہے گا بلکہ امتیازی قانون بن جائے گا۔ اگر اپوزیشن کے جلسے کے لیے سرکاری وسائل استعمال کرنا غیر قانونی ہے تو حکمران جماعت کی سیاسی سرگرمی کے لیے بھی یہی اصول ہونا چاہیے۔
اسی طرح اگر مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے تو اس کی ضرورت، تناسب اور قانونی بنیاد بھی دیکھی جانی چاہیے۔ پولیس کا کام کسی سیاسی جماعت کو شکست دینا نہیں بلکہ قانون نافذ کرنا ہے۔ مظاہرین قانون توڑیں تو کارروائی ہونی چاہیے، لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اختیارات سے تجاوز کریں تو احتساب ہونا چاہیے۔27 ستمبر کا احتجاج اسی وسیع تر اصول کی آزمائش بن سکتا ہے۔ پی ٹی آئی نے اسے سیاسی مطالبات، بالخصوص عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے مطالبے سے جوڑا ہے، جبکہ حکومت اور متعلقہ حکام کو خدشہ ہے کہ بڑے پیمانے کا احتجاج شہری زندگی اور ٹریفک کو متاثر کرسکتا ہے۔دونوں مؤقف کو قانون کی کسوٹی پر پرکھنا ہوگا۔ سیاسی مطالبہ اپنی جگہ جائز سیاسی بحث کا حصہ ہوسکتا ہے، مگر اس مطالبے کے حصول کا طریقہ بھی آئینی ہونا چاہیے۔ اسی طرح حکومت کی جانب سے شہری زندگی کے تحفظ کا مؤقف اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس مقصد کے لیے اٹھایا جانے والا ہر قدم بھی قانونی اور متناسب ہونا چاہیے۔یہاں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ حکومت جیتتی ہے یا احتجاج کرنے والی جماعت۔ اصل سوال یہ ہے کہ قانون جیتتا ہے یا سیاسی طاقت؟جمہوریت میں حکومت کو اختلاف برداشت کرنا پڑتا ہے اور اپوزیشن کو قانون کی حدود میں اختلاف کرنا پڑتا ہے۔
حکومت احتجاج ختم کرکے جمہوریت مضبوط نہیں کرسکتی، اور اپوزیشن شہری زندگی مفلوج کرکے جمہوری سیاست کو مضبوط نہیں کرسکتی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا اصل امتحان بھی یہی ہوگا۔ اگر ریاستی وسائل کے سیاسی استعمال کے خلاف اصول تمام جماعتوں پر یکساں نافذ ہوتا ہے، اگر شہریوں کے حقوق احتجاج کے دوران محفوظ رہتے ہیں، اگر سیاسی کارکنوں کو بلاجواز ہراساں نہیں کیا جاتا اور اگر حکومت بھی عدالتی احکامات کی پابندی کرتی ہے تو یہ فیصلہ سیاسی احتجاج کے لیے ایک اہم قانونی معیار بن سکتا ہے۔لیکن اگر قانون کا استعمال صرف سیاسی مخالفین کے خلاف ہوگا، یا احتجاج روکنے کے نام پر شہری آزادیوں کو ضرورت سے زیادہ محدود کیا جائے گا، تو پھر سوال کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ قانون کی غیر جانب داری کا ہوگا۔پاکستان کو اس وقت سیاسی انتقام سے زیادہ قانون کی یکسانیت کی ضرورت ہے۔ احتجاج کا حق بھی محفوظ ہونا چاہیے، عام شہری کے حقوق بھی۔ ریاستی رٹ بھی قائم رہنی چاہیے اور ریاستی طاقت کی حدود بھی واضح ہونی چاہئیں۔
نہ سڑک پارلیمان کا متبادل بن سکتی ہے، نہ کنٹینر سیاسی مسئلے کا حل۔ نہ ہجوم عدالت کا فیصلہ کرسکتا ہے، نہ انتظامیہ عدلیہ کا اختیار سنبھال سکتی ہے۔سیاسی جماعتوں کو اپنے مطالبات کے لیے آئینی راستے اختیار کرنے ہوں گے، حکومت کو اختلاف برداشت کرنا ہوگا، انتظامیہ کو غیر جانب دار رہنا ہوگا اور عدالتوں کو بنیادی حقوق اور قانون کی حدود کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوگا۔آخرکار جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ حکومت کو احتجاج برداشت کرنا پڑتا ہے اور اپوزیشن کو قانون کا احترام کرنا پڑتا ہے۔احتجاج کا حق بھی آئینی ہے، شہریوں کے حقوق بھی آئینی ہیں؛ ریاستی رٹ بھی ضروری ہے اور ریاستی طاقت کی حدود بھی۔پاکستان میں پائیدار سیاسی استحکام کسی ایک فریق کو خاموش کرانے سے نہیں بلکہ ایسے یکساں قانونی اصول قائم کرنے سے آئے گا جو حکومت اور اپوزیشن دونوں پر اس وقت بھی لاگو ہوں جب سیاسی حالات بدل جائیں۔یہی اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا اصل امتحان ہے، اور یہی پاکستان کی جمہوری سیاست کا بھی۔






