نئی دہلی: بھارت نے پاکستان میں موجود مبینہ شہزاد بھٹی نیٹ ورک کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے تحت دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا۔ بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق اس نیٹ ورک پر بھارت میں دہشتگردی، نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے ساتھ ملانے، ہتھیاروں اور منشیات کی مبینہ اسمگلنگ اور مختلف پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق شہزاد بھٹی نیٹ ورک مبینہ طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارت میں نوجوانوں سے رابطے کرتا اور انہیں جرائم و دہشتگردی سے متعلق سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ نیٹ ورک نے فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب، واٹس ایپ اور اسنیپ چیٹ سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متعدد اکاؤنٹس قائم کر رکھے تھے۔بھارتی تفتیشی اداروں کے مطابق شہزاد بھٹی سے منسوب نیٹ ورک کے رابطے بھارت کی متعدد ریاستوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ حکام نے اترپردیش، پنجاب، ہریانہ، دہلی، راجستھان، مہاراشٹر، گجرات، جموں و کشمیر، کرناٹک، بہار، کیرالہ اور دیگر علاقوں میں نیٹ ورک سے متعلق تحقیقات اور کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔اترپردیش پولیس کے مطابق ریاست میں نیٹ ورک سے متعلق 12 مقدمات درج کیے گئے جبکہ متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بعض افراد کو مبینہ طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں لایا گیا اور انہیں مالی فوائد یا دیگر مراعات کی پیشکش کی گئی۔بھارتی حکام نے شہزاد بھٹی نیٹ ورک کو بعض گرینیڈ حملوں، دھماکا خیز مواد کے استعمال، پیٹرول بم حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کی مبینہ سازشوں سے بھی جوڑا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب اور ہماچل پردیش سمیت مختلف علاقوں میں ہونے والے بعض واقعات کی تحقیقات کے دوران ملنے والے شواہد کی بنیاد پر اس نیٹ ورک کے مبینہ کردار کا جائزہ لیا گیا۔
بھارتی حکام کا مزید دعویٰ ہے کہ نیٹ ورک سے وابستہ بعض افراد کو پولیس اہلکاروں، سکیورٹی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات کی مبینہ نگرانی یا ریکی کے لیے استعمال کیا گیا۔ بھارتی تفتیشی اداروں نے بعض کارروائیوں میں گرفتار افراد سے پوچھ گچھ کے دوران نیٹ ورک کے مزید ارکان اور رابطوں تک پہنچنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔بھارتی پولیس اور سکیورٹی حکام کی جانب سے شہزاد بھٹی نیٹ ورک کے پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی سے مبینہ روابط کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں، تاہم یہ دعوے بھارتی حکام کا مؤقف ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ پاکستان کی جانب سے اس مخصوص معاملے پر کوئی ایسا تازہ سرکاری مؤقف دستیاب نہیں جس سے بھارتی الزامات کی آزادانہ تصدیق ہوتی ہو۔بھارتی وزارت داخلہ نے 16 ستمبر 2026 کو جاری کارروائی کے ذریعے شہزاد بھٹی نیٹ ورک کو یو اے پی اے کے تحت دہشتگرد تنظیم قرار دیا۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے بعد تنظیم سے منسلک افراد، مالی معاونت اور مبینہ سہولت کاری کے خلاف قانونی کارروائی کا دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے۔دوسری جانب ماہرین کے مطابق کسی تنظیم کو دہشتگرد قرار دینے کے بعد اس کے مبینہ مالی اور تنظیمی روابط کی تحقیقات، اثاثوں کی نگرانی اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کے خلاف کارروائی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ تاہم شہزاد بھٹی نیٹ ورک کے تنظیمی ڈھانچے، مالی ذرائع اور مختلف واقعات میں اس کے مبینہ کردار سے متعلق حتمی حقائق کا تعین متعلقہ عدالتی اور تفتیشی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔






