ازن عباس مہدی
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایک بار پھر عام آدمی کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہیں۔ حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 10 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 41 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے، جس کے بعد پٹرول 384 روپے 34 پیسے اور ڈیزل 415 روپے 83 پیسے فی لیٹر ہوگیا ہے۔ ایک طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور دوسری طرف حکومت نے موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے 100 روپے فی لیٹر ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک متوازن اقدام دکھائی دیتا ہے کہ قیمت بڑھی بھی اور متاثرہ طبقے کو ریلیف بھی مل گیا، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ دونوں فیصلوں کے درمیان عام شہری کی مشکلات بدستور موجود ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا پڑی ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ پاکستان اپنی پٹرولیم ضروریات کے ایک بڑے حصے کے لیے عالمی منڈی پر انحصار کرتا ہے اور عالمی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ کا اثر ملکی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
لیکن عام شہری کے لیے اصل مسئلہ عالمی منڈی کی صورتحال سے زیادہ یہ ہے کہ اسے ہر چند ہفتوں بعد پٹرول مہنگا ملتا ہے اور اس کے نتیجے میں گھر کا بجٹ مزید سکڑ جاتا ہے۔پٹرول کی قیمت بڑھنے کا اثر صرف ان لوگوں تک محدود نہیں رہتا جو اپنی گاڑی میں پٹرول ڈلواتے ہیں۔ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل دراصل پورے معاشی نظام کی قیمتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ سبزی منڈی سے شہر کی دکان تک آنے والی سبزی ہو، کسان کی پیداوار ہو، فیکٹری کا خام مال ہو، اسکول جانے والا طالب علم ہو یا روزگار کے لیے روزانہ سفر کرنے والا مزدور، کسی نہ کسی مرحلے پر ایندھن کی قیمت اس کے اخراجات کا حصہ بن جاتی ہے۔ چنانچہ حکومت اگر کسی مخصوص صارف کو ماہانہ دو یا تین ہزار روپے کا ریلیف بھی دے دے تو ضروری نہیں کہ پٹرول مہنگا ہونے کے نتیجے میں بڑھنے والے تمام اخراجات بھی اسی تناسب سے کم ہوجائیں۔حکومت کے موجودہ پیکیج میں موٹر سائیکل، رکشہ اور دیگر دو و تین پہیوں والی سواریوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر تک پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے ریلیف رکھا گیا ہے، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے ماہانہ 30 لیٹر تک یہی سہولت دی جائے گی۔ اس حساب سے موٹر سائیکل یا رکشہ استعمال کرنے والے کو زیادہ سے زیادہ 2 ہزار روپے ماہانہ اور چھوٹی گاڑی کے صارف کو 3 ہزار روپے تک ریلیف مل سکتا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس اسکیم کے لیے 75 ارب روپے کی منظوری دی ہے اور یہ سہولت غیر تجارتی صارفین تک محدود رکھی گئی ہے۔یہاں زمینی حقیقت کا پہلا سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا 20 لیٹر پٹرول ایک ماہ کے لیے موٹر سائیکل استعمال کرنے والے شخص کی ضرورت پوری کرسکتا ہے؟ ایسے لاکھوں افراد موجود ہیں جو روزانہ موٹر سائیکل پر کئی کلومیٹر سفر کرتے ہیں۔ دفتر، دکان، فیکٹری، اسکول، کالج یا کاروبار کے لیے روزانہ آنے جانے والے شخص کے لیے 20 لیٹر پٹرول کی حد بہت جلد ختم ہوسکتی ہے۔ اسی طرح رکشہ ڈرائیور کے لیے بھی پٹرول صرف ذاتی سفر نہیں بلکہ اس کی روزی کا ذریعہ ہے۔
تاہم موجودہ اسکیم غیر تجارتی صارفین تک محدود ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ روزانہ مسافر اٹھا کر آمدنی کمانے والے بہت سے رکشہ ڈرائیور براہ راست اس سہولت سے باہر ہوسکتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں حکومتی پیکیج اور زمینی ضرورت کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔ حکومت نے ریلیف ان لوگوں کے لیے مخصوص کیا ہے جو مخصوص قسم کی گاڑیوں کے مالک یا صارف ہیں، لیکن مہنگے پٹرول کے اثرات صرف انہی لوگوں تک محدود نہیں۔ ایک مزدور کے پاس اپنی موٹر سائیکل نہیں اور وہ بس یا ویگن میں سفر کرتا ہے تو اسے پٹرول پر براہ راست 100 روپے فی لیٹر کا کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔ اگر پٹرول مہنگا ہونے سے پبلک ٹرانسپورٹ کا کرایہ بڑھتا ہے تو اس کا خرچ اسے اپنی جیب سے ادا کرنا ہوگا۔دوسری طرف حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر مختلف ٹیکس اور لیوی بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ موجودہ پیکیج کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق پٹرول پر 80 روپے پٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور 21 روپے کسٹمز ڈیوٹی فی لیٹر شامل ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے الگ رقم مختص کی ہے، لیکن پٹرول کی قیمت میں شامل اہم محصولات میں اسی تناسب سے کمی نہیں کی گئی۔یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ حکومت رواں مالی سال پٹرولیم لیوی سے بڑی رقم حاصل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ موجودہ بجٹ میں پٹرولیم لیوی کی وصولی کا ہدف تقریباً 1.67 ٹریلین روپے رکھا گیا ہے۔ اس تناظر میں 75 ارب روپے کا تین ماہ کا ریلیف پیکیج مجموعی لیوی ہدف کے مقابلے میں محدود رقم بنتا ہے۔ اس لیے اسے مستقل قیمتوں میں کمی کے بجائے ایک محدود اور وقتی ریلیف سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔حکومت کے پیکیج کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ ریلیف کو براہ راست پٹرول کی خریداری کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ رجسٹریشن کے لیے شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کا نمبر، صوبے کا کوڈ اور رجسٹریشن کی تاریخ ایس ایم ایس کے ذریعے 9771 پر بھیجنے کا طریقہ متعارف کرایا گیا ہے۔ رجسٹر ہونے والے صارف کو پٹرول پمپ جانے سے پہلے مخصوص ٹوکن حاصل کرنا ہوگا اور اس ٹوکن کی تصدیق کے بعد ریلیف دیا جائے گا۔ حکومت نے یہ ایس ایم ایس سروس مفت رکھنے کی بھی ہدایت کی ہے۔لیکن اصل امتحان اب شروع ہوگا۔ پاکستان میں کسی بھی سرکاری اسکیم کی کامیابی صرف اس کے اعلان سے نہیں بلکہ اس بات سے طے ہوتی ہے کہ وہ عام آدمی تک کتنی آسانی سے پہنچتی ہے۔
اگر ایک موٹر سائیکل سوار کو رجسٹریشن کے لیے بار بار کوشش کرنا پڑے، شناختی معلومات میں معمولی غلطی کے باعث درخواست مسترد ہوجائے، موبائل نمبر یا گاڑی کے ریکارڈ میں مسئلہ آئے یا پٹرول پمپ پر ٹوکن کی تصدیق میں وقت لگے تو سرکاری پیکیج کا فائدہ حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔خود پٹرول ڈیلرز نے بھی اس نظام کے عملی پہلوؤں پر خدشات ظاہر کیے ہیں۔ پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے کہا ہے کہ جعلی شناختی دستاویزات یا دیگر دھوکے کے امکانات کی صورت میں مالی نقصان ڈیلرز پر پڑ سکتا ہے اور انہوں نے طریقۂ کار میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ اعتراض اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسکیم کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے نفاذ کے طریقہ کار کو بھی مسلسل بہتر بنانا ہوگا۔اسلام آباد میں اسکیم کے ابتدائی نفاذ کے دوران بڑی تعداد میں ایس ایم ایس موصول ہونے اور ہزاروں افراد کے کامیاب اندراج کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق اسلام آباد ریجن میں 6 لاکھ سے زیادہ ایس ایم ایس موصول ہوئے جبکہ 42 ہزار 933 درخواست گزار کامیابی سے رجسٹر ہوئے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عوام میں اسکیم کے حوالے سے دلچسپی موجود ہے، لیکن اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ ملک بھر میں رجسٹریشن اور پٹرول کی فراہمی کا عمل کس قدر آسان اور بلاتعطل رہتا ہے۔
زمینی حقیقت یہ بھی ہے کہ پٹرول کی قیمت بڑھنے کے بعد صرف پٹرول خریدنے والے شخص کا خرچ نہیں بڑھتا بلکہ مارکیٹ میں مہنگائی کا دباؤ بھی پیدا ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹر اپنے اخراجات دیکھ کر کرایہ بڑھانے کی کوشش کرتا ہے، مال بردار گاڑیوں کے اخراجات بڑھتے ہیں، دکاندار نقل و حمل کی اضافی لاگت کو قیمت میں شامل کرتا ہے اور بالآخر بوجھ صارف تک منتقل ہوجاتا ہے۔ اگر حکومت صرف پٹرول استعمال کرنے والے مخصوص افراد کو محدود ریلیف دیتی ہے تو مہنگائی کے اس وسیع سلسلے کا ازالہ نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ موجودہ پیکیج کو عوامی مشکلات کا مکمل حل قرار دینا زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ ایک محدود طبقے کے لیے وقتی سہولت ضرور بن سکتا ہے، لیکن پٹرولیم قیمتوں میں مسلسل اضافے، ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات کا مستقل علاج نہیں۔ اس کے لیے حکومت کو پٹرولیم قیمتوں کے پورے ڈھانچے کا جائزہ لینا ہوگا۔پاکستان میں ایک طرف حکومت مالی وسائل بڑھانے کے لیے پٹرولیم لیوی پر انحصار کرتی ہے اور دوسری طرف مہنگائی سے متاثرہ عوام کو اسی ایندھن پر ریلیف دینا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت اپنی آمدنی کے ذرائع اور اخراجات دونوں کا وسیع جائزہ لے۔ اگر پٹرول کی قیمت بڑھانے کے بعد سبسڈی دینا معمول بن جائے تو یہ ایک مستقل مالی بوجھ پیدا کرسکتا ہے۔
بہتر راستہ یہ ہوگا کہ وقتی ریلیف کے ساتھ توانائی کے شعبے میں ایسی اصلاحات کی جائیں جو مستقبل میں عالمی قیمتوں کے جھٹکوں کو کم کرسکیں۔ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن بھی اسی سلسلے کی ایک اہم ضرورت ہے۔ حکومت نے موجودہ ریفائنریوں کو اپ گریڈ کرکے یورو فائیو معیار کی پٹرولیم مصنوعات کی پیداوار بڑھانے، فرنس آئل پر انحصار کم کرنے اور ریفائنریوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کی منظوری دی ہے۔ تاہم ان منصوبوں کے نتائج فوری طور پر عوام تک نہیں پہنچیں گے؛ اس لیے موجودہ بحران کے ساتھ ساتھ طویل المدتی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آج عام آدمی کے لیے سوال یہ نہیں کہ حکومت نے پیکیج کا اعلان کیا یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ پٹرول کی موجودہ قیمت میں اسے عملی طور پر کتنا فائدہ مل رہا ہے۔ اگر کسی موٹر سائیکل سوار کو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 2 ہزار روپے ریلیف ملتا ہے لیکن اسی دوران سفر، خوراک، ٹرانسپورٹ اور دوسری ضروریات کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں تو اس کے گھریلو بجٹ پر دباؤ برقرار رہے گا۔ اسی طرح چھوٹی گاڑی کے مالک کے لیے 3 ہزار روپے کی ماہانہ سہولت اس وقت محدود محسوس ہوسکتی ہے جب اس کے مجموعی ماہانہ سفری اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہوں۔اس لیے پٹرولیم مصنوعات کے معاملے میں حکومت کو صرف قیمت اور پیکیج کے دو خانوں میں مسئلے کو نہیں دیکھنا چاہیے۔
اصل مسئلہ عوام کی قوت خرید، ٹرانسپورٹ کے اخراجات، مہنگائی، ٹیکسوں، پٹرولیم لیوی اور ملکی توانائی کی ضروریات سے جڑا ہوا ہے۔ موجودہ ریلیف پیکیج ضرورت مند مخصوص صارفین کو فوری سہارا دے سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت واضح کرے کہ یہ سہولت کتنی مدت تک رہے گی، اس کی لاگت کیسے پوری ہوگی اور عالمی تیل کی قیمتیں بلند رہنے کی صورت میں اگلا قدم کیا ہوگا۔پٹرول کی قیمت 384 روپے 34 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 415 روپے 83 پیسے فی لیٹر تک پہنچنے کے بعد عوام کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ ریلیف کاغذ سے نکل کر پٹرول پمپ تک کتنی آسانی سے پہنچتا ہے۔ حکومت نے ایک طرف قیمت میں اضافہ کرکے مالی دباؤ کو تسلیم کیا ہے اور دوسری طرف پیکیج کے ذریعے اس دباؤ کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ رجسٹریشن میں رکاوٹیں نہ ہوں، پٹرول پمپوں پر عملدرآمد آسان ہو، مستحق صارف کو بروقت ریلیف ملے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس عارضی سہولت کے ساتھ پٹرولیم قیمتوں کے مستقل مسئلے کا بھی حل تلاش کیا جائے۔عوام کو وقتی پیکیج سے کچھ سہارا مل سکتا ہے، لیکن زمینی حقیقت یہی ہے کہ پٹرول مہنگا ہونے کا اثر صرف پٹرول کی بوتل یا گاڑی کے ٹینک تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورے گھر کے بجٹ تک پہنچتا ہے۔ اسی لیے اصل ضرورت صرف پیکیج دینے کی نہیں بلکہ ایسی پالیسی بنانے کی ہے جس میں قیمتوں میں اضافے، ٹیکسوں، لیوی، توانائی کے درآمدی انحصار اور عام آدمی کی قوت خرید کے درمیان قابلِ عمل توازن قائم کیا جاسکے۔





