آسمان بُھٹہ
(مصنف اوٹاوا یونیورسٹی میں قانون کے طالب علم ہیں)
پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ میں 2007 کی وکلا تحریک ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ 9 مارچ 2007 کو اس وقت کے صدر اور فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کی جانب سے چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری کو عہدے سے ہٹانے کی کوشش کے بعد جو احتجاج شروع ہوا، وہ محض ایک جج کی بحالی کی تحریک نہیں رہا بلکہ رفتہ رفتہ عدلیہ کی آزادی، آئین کی بالادستی، جمہوریت اور فوجی اقتدار کے خلاف ایک وسیع سیاسی و سماجی تحریک میں تبدیل ہوگیا۔ اس تحریک میں وکلا کے علاوہ سول سوسائٹی، سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی مختلف مراحل میں کردار ادا کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق منیر اے ملک، اعتزاز احسن، طارق محمود اور علی احمد کرد تحریک کے نمایاں رہنماؤں میں شامل تھے۔اس تحریک کا فوری مقصد معزول چیف جسٹس اور دیگر معزول ججوں کی بحالی تھا، لیکن اس کے اثرات اس سے کہیں زیادہ وسیع ثابت ہوئے۔ 2007 میں چیف جسٹس کی ابتدائی بحالی کے بعد نومبر میں جنرل مشرف نے ایمرجنسی نافذ کرکے دوبارہ عدلیہ کو نشانہ بنایا، متعدد ججوں کو عہدوں سے الگ کیا گیا اور وکلا و سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں ہوئیں۔ بالآخر مارچ 2009 میں سیاسی دباؤ، وکلا کے لانگ مارچ اور مذاکرات کے نتیجے میں افتخار محمد چوہدری سمیت معزول ججوں کی بحالی کا اعلان کیا گیا۔
یہاں سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ تحریک عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بالادستی کے لیے تھی تو اس کے سیاسی اور ادارہ جاتی بینیفشری کون رہے؟ کیا فائدہ صرف بحال ہونے والے ججوں کو پہنچا، سیاسی جماعتوں نے بھی اس تحریک سے فائدہ اٹھایا، یا تحریک میں شامل بعض وکلا خود بعد میں اعلیٰ عدلیہ کے جج بن کر اس کے نمایاں بینیفشری بنے؟اس تحریک کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں فعال کردار ادا کرنے والے بعض وکلا بعد کے برسوں میں اعلیٰ عدلیہ کا حصہ بن گئے۔ جسٹس سید منصور علی شاہ ان نمایاں شخصیات میں شامل ہیں۔ وہ وکالت کے دوران 2007 کی وکلا تحریک میں فعال طور پر شریک رہے۔ وہ یحییٰ آفریدی اور اطہر من اللہ کے ساتھ ’’افریدی، شاہ اینڈ من اللہ‘‘ نامی قانونی فرم کے بانی شراکت داروں میں شامل تھے۔ 2009 میں انہیں لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ بعد میں وہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور پھر سپریم کورٹ کے جج بنے۔ ان کی وکلا تحریک میں شرکت کا ذکر بعد کے عدالتی و صحافتی حوالوں میں بھی ملتا ہے۔جسٹس اطہر من اللہ بھی اس تحریک کے حوالے سے ایک نمایاں نام ہیں۔ وہ 2007 میں وکلا تحریک میں شامل ہوئے اور تحریک کے فعال کارکنوں میں شمار ہوئے۔ بعد ازاں وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے منصب تک پہنچے اور پھر سپریم کورٹ کے جج بنے۔
ان کا عدالتی سفر اس لحاظ سے اہم ہے کہ ایک ایسا وکیل جو مشرف دور میں عدلیہ کی بحالی کے لیے سڑکوں پر تھا، بعد میں اسی عدالتی نظام کے اعلیٰ ترین ادارے کا حصہ بن گیا۔جسٹس جمال خان مندوخیل بھی اس فہرست میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ عدالت عالیہ بلوچستان کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق انہوں نے وکیل کی حیثیت سے عدلیہ کی بحالی اور آزادی کی تحریک میں فعال کردار ادا کیا۔ ستمبر 2009 میں انہیں بلوچستان ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں وہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے جج بنے۔ یوں ان کا نام بھی ان وکلا میں شامل ہوتا ہے جنہوں نے تحریک کے دوران وکیل کی حیثیت سے حصہ لیا اور بعد میں عدلیہ کے اعلیٰ منصب تک پہنچے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی بھی مشرف دور کی وکلا تحریک میں سرگرم رہنے والے وکیل تھے۔ بعد میں انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ تاہم ان کا عدالتی سفر دیگر ناموں سے مختلف رہا۔ انہیں بعد میں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے نتیجے میں عہدے سے ہٹا دیا گیا، جبکہ ان کے خلاف کارروائی اور بعد کے عدالتی معاملات ایک الگ قانونی و آئینی بحث کا موضوع بنے۔جسٹس یحییٰ آفریدی کا نام بھی اس بحث میں آتا ہے۔ وہ منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ کے ساتھ ’’افریدی، شاہ اینڈ من اللہ‘‘ سے وابستہ رہے اور بعد میں پشاور ہائی کورٹ کے جج، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے جج بنے۔ تاہم ان کی وکلا تحریک میں شرکت کی نوعیت کے بارے میں دستیاب حوالوں کو دیکھتے ہوئے انہیں تحریک کے مرکزی کارکنوں میں شمار کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔
اس معاملے میں یہ فرق برقرار رکھنا چاہیے کہ کسی وکیل کا تحریک کی حمایت کرنا، تحریک میں شرکت کرنا اور تحریک کا مرکزی رہنما ہونا تین الگ چیزیں ہیں۔یہاں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک میں شامل وکلا کا بعد میں جج بننا اس تحریک کا ’’فائدہ‘‘ یا ’’انعام‘‘ تھا؟ اس سوال کا جواب محتاط انداز میں دینا ضروری ہے۔ کسی وکیل کا تحریک میں حصہ لینا اور اس کے بعد جج بننا دو الگ تاریخی واقعات ہیں۔ جب تک براہ راست شواہد موجود نہ ہوں، یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ کسی شخص کو صرف تحریک میں کردار کی وجہ سے عدالتی منصب دیا گیا۔ اعلیٰ عدلیہ میں تقرری کے لیے آئینی اور قانونی طریقۂ کار موجود تھا اور ہر تقرری کے اپنے مخصوص حالات تھے۔البتہ یہ تاریخی حقیقت ضرور ہے کہ تحریک نے وکلا کی ایک ایسی نسل کو قومی سطح پر نمایاں کیا جس کے بعض ارکان بعد میں اعلیٰ عدلیہ تک پہنچے۔ اس اعتبار سے تحریک کے ادارہ جاتی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔وکلا تحریک کے سیاسی اثرات بھی انتہائی اہم تھے۔
جنرل مشرف کے خلاف سیاسی مخالفت پہلے سے موجود تھی، لیکن وکلا تحریک نے اس مخالفت کو آئین، قانون اور عدلیہ کی آزادی کے ایک مقبول بیانیے کے ساتھ جوڑ دیا۔ 2007 کے بعد ملک میں سیاسی کشمکش تیز ہوئی، بے نظیر بھٹو وطن واپس آئیں، 2008 کے انتخابات ہوئے، پیپلز پارٹی وفاق میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی جبکہ مسلم لیگ ن بھی ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی۔تحریک کے آخری مرحلے میں مسلم لیگ ن کا کردار خاص طور پر نمایاں ہوا۔ مارچ 2009 میں وکلا کا لانگ مارچ اور مسلم لیگ ن کی سیاسی شرکت حکومت کے لیے شدید دباؤ کا باعث بنی۔ اس وقت مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی جبکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن اور وفاقی حکومت کے درمیان شدید سیاسی اختلافات موجود تھے۔ عدلیہ کی بحالی کا مطالبہ ان اختلافات کا ایک اہم حصہ بن گیا اور بالآخر معزول ججوں کی بحالی کا اعلان ہوا۔پیپلز پارٹی کا کردار اس معاملے میں زیادہ پیچیدہ تھا۔ پارٹی کے اہم رہنما اعتزاز احسن خود وکلا تحریک کے مرکزی رہنماؤں میں شامل تھے، لیکن حکومت میں آنے کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت اور مسلم لیگ ن کے درمیان عدلیہ کی بحالی کے معاملے پر اختلافات پیدا ہوگئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک کو مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے سیاسی حالات کے مطابق مختلف انداز میں دیکھا اور استعمال کیا۔
اس تحریک کا ایک اہم بینیفشری پاکستانی میڈیا بھی تھا۔ اس دور میں نجی ٹیلی وژن چینلز تیزی سے اپنا اثر بڑھا رہے تھے۔ وکلا کے احتجاج، پولیس کارروائیاں، گرفتاریوں، عدالتی کارروائیوں اور سیاسی بیانات کو مسلسل ٹی وی کوریج حاصل ہوئی۔ براہ راست نشریات نے تحریک کو ملک کے دور دراز علاقوں تک پہنچایا اور عوامی دباؤ بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ اس اعتبار سے وکلا تحریک اور پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا کے پھیلاؤ نے ایک دوسرے کو تقویت دی۔جنرل پرویز مشرف کے اقتدار پر بھی تحریک کا اثر پڑا، لیکن ان کے 2008 میں اقتدار سے علیحدہ ہونے کو صرف وکلا تحریک کا نتیجہ قرار دینا تاریخی طور پر درست نہیں ہوگا۔ مشرف مخالف سیاسی قوتیں، 2007 کی ایمرجنسی، سیاسی جماعتوں کی پوزیشن، 2008 کے انتخابات، مواخذے کا خطرہ اور دیگر عوامل بھی اس پورے عمل کا حصہ تھے۔ البتہ وکلا تحریک نے مشرف حکومت کے خلاف آئینی اور عوامی دباؤ کو نمایاں طور پر بڑھایا۔تحریک کا سب سے اہم طویل المدتی اثر عدلیہ کے کردار میں تبدیلی کی صورت میں سامنے آیا۔ افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بعد سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس، بنیادی حقوق، لاپتہ افراد، نجکاری، احتساب اور حکومتی فیصلوں کے مختلف معاملات میں زیادہ فعال کردار ادا کیا۔
تحریک کے حامیوں کے نزدیک یہ عدلیہ کی آزادی اور شہری حقوق کے تحفظ کی سمت اہم پیش رفت تھی، جبکہ ناقدین کے نزدیک عدالتوں کی بڑھتی ہوئی فعالیت نے منتخب حکومتوں اور عدلیہ کے درمیان نئی کشیدگی پیدا کی۔ اس اختلاف کو کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ دے کر بیان کرنے کے بجائے یہ تسلیم کرنا زیادہ مناسب ہے کہ تحریک کے بعد پاکستان میں عدلیہ کا سیاسی اور آئینی کردار پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ نمایاں ہوگیا۔اگر ’’بینیفشری‘‘ سے مراد وہ افراد اور ادارے ہیں جن کی پوزیشن تحریک کے نتیجے میں مضبوط ہوئی تو اس فہرست میں کئی طبقات آتے ہیں۔ فوری طور پر معزول جج اپنے عہدوں پر واپس آئے۔ وکلا برادری نے قومی سیاسی اور آئینی مباحث میں غیر معمولی اہمیت حاصل کی۔ سیاسی جماعتوں نے مشرف حکومت کے خلاف عوامی دباؤ کے لیے تحریک سے فائدہ اٹھایا۔ میڈیا کو غیر معمولی سیاسی اور عوامی اثر حاصل ہوا۔ اور تحریک میں فعال کردار ادا کرنے والے بعض وکلا بعد میں اعلیٰ عدلیہ کے جج بنے۔
لیکن اس پوری بحث میں عام شہری کا سوال سب سے اہم ہے۔ اگر تحریک کا بنیادی مقصد آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی تھا تو اس کا حتمی فائدہ عام شہری کو اسی صورت میں پہنچ سکتا تھا جب اس کے نتیجے میں انصاف کی فراہمی، ادارہ جاتی توازن اور آئینی حکمرانی مستقل بنیادوں پر مضبوط ہوتی۔ صرف کسی چیف جسٹس یا چند ججوں کی بحالی کو تحریک کی مکمل کامیابی قرار دینا اس کے وسیع تر مقاصد کو محدود کردینا ہوگا۔تقریباً دو دہائیاں گزرنے کے بعد 2007 کی وکلا تحریک کا جائزہ لیتے ہوئے یہ کہنا ممکن ہے کہ اس کے اثرات صرف مشرف حکومت کے خلاف مزاحمت تک محدود نہیں رہے۔ اس تحریک نے پاکستان کی عدالتی سیاست، وکلا کے کردار، میڈیا کی طاقت اور سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔
اس تحریک کے دوران نمایاں ہونے والے بعض وکلا بعد میں اعلیٰ عدلیہ کے جج بنے، بعض سیاسی کرداروں میں نمایاں ہوئے اور بعض نے قانونی میدان میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔اس لیے مشرف کے خلاف وکلا تحریک کے ’’بینیفشری‘‘ کسی ایک فرد، جماعت یا ادارے کو قرار دینا تاریخی طور پر درست نہیں ہوگا۔ اس کے مختلف مراحل میں مختلف فریقوں کو مختلف نوعیت کے فوائد حاصل ہوئے۔ سب سے اہم تاریخی سوال یہ ہے کہ اس جدوجہد نے پاکستان کے آئینی نظام کو کس حد تک تبدیل کیا اور اس تبدیلی کا مستقل فائدہ ریاستی اداروں اور عام شہری کو کس حد تک پہنچا۔وکلا تحریک نے یہ ضرور ثابت کیا کہ پاکستان میں ایک آئینی مسئلہ، اگر اسے وسیع عوامی اور قانونی حمایت حاصل ہوجائے، تو وہ ملک کی سیاست کا مرکزی موضوع بن سکتا ہے۔ لیکن کسی بھی تحریک کا اصل امتحان اس کے فوری نعروں یا وقتی کامیابیوں کے بجائے اس کے دیرپا ادارہ جاتی نتائج ہوتے ہیں۔ 2007 کی تحریک اسی اعتبار سے آج بھی پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ کا ایک اہم حوالہ ہے۔





