وزیرِ اعظم نے صحافیوں کے لئے ہیلتھ انشورنس کارڈزکا اجرا کردیا

0
153

اسلام آباد(روزنامہ طلوع)وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں صحافیوں، میڈیا ورکرز، فنکاروں اور ٹیکنیکل ریسورس کے لئے ہیلتھ انشورنش کارڈ کے اجرا و فراہمی اور پاکستان کوڈ، ڈیجیٹل ریپازٹری آف فیڈرل لازموبائل ایپ اور ویب سائٹ کا اجرا کردیا۔ منگل کو وزیراعظم نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑکے ہمراہ اس ایپ کا اجرا کیا۔ صحافیوں، فنکاروں، میڈیاورکرز اور ٹیکنیکل ریسورس کے لئے ہیلتھ کارڈ کا بھی اجراکیاگیا۔ پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ اور پی ایف یو جے دستور کے صدر حاجی نواز رضا کو وزیراعظم کی جانب سے ہیلتھ کارڈ دیاگیا۔ ہیلتھ انشورنس کارڈ کے تحت ملک بھر میں 1200 ہسپتالوں میں سالانہ 15 لاکھ روپے کی کارپوریٹ ہیلتھ انشورنس سے صحافی، میڈیا ورکرز، فنکار اور ٹیکنیکل ریسورس عالمی معیار کی صحت کی سہولیات مفت حاصل کر سکیں گے۔پاکستان کوڈ ویب سائٹ اور موبائل ایپ سے ججز، وکلا ، قانونی ماہرین، قانون کے طالب علم، حکومتی اہلکار اور عام عوام ہر قسم کے وفاقی قوانین تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہاز شریف نے پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران زندگی کی بازی ہارنے والے صحافیوں کے لئے خصوصی فنڈ کے قیام کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ایسے کسی حادثے میں جاں بحق ہونیوالے صحافی کے لواحقین کو 40 لاکھ روپے ادا کئے جائیں گے جبکہ وزیراعظم نے صحافیوں کے لئے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہیلتھ کارڈ کابھی اجرا کردیا ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ امراض زندگی کا حصہ ہیں ۔ ہیلتھ کارڈ کے اجرا پر سب کو مبارکباد پیش کرتاہوں۔ اس کے لئے مریم اورنگزیب ، سیکرٹری اطلاعات اور ان کی ٹیم کاخصوصی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک بڑی ذمہ داری ادا کی ہے۔ یہ صحافت کے میدان میں ایک انقلابی قدم ہے۔ ورکنگ جرنلسٹ اپنے فرائض کی ادائیگی بہت سے چیلنجز اور خطرات کاسامنا کرتے ہیں۔ پاکستان کو ڈیجیٹل ریپازٹری آف فیڈرل لاز ، موبائل ایپ اور ویب سائٹ کے اجرا پر وزیرقانون اور ان کی ٹیم کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں ، اس سے اب قوم اور پوری دنیا کو قوانین تک رسائی حاصل ہو گی۔ تمام قوانین اور آئینی دفعات سے فوری طور پر مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب سے مشاورت سے فیصلہ کیا ہے کہ وہ صحافی جو فرائض کی ادائیگی کے دوران زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو ان کے لئے خصوصی فنڈ کاقیام عمل میں لایا جارہاہے ۔ایسے حادثے کا شکار ہونے والے صحافی کے اہل خانہ کو 40 لاکھ روپے کی رقم کی وزیراعظم فنڈ سے ادائیگی ہو گی ، گو کہ یہ رقم آج کے حالات میں کوئی زیادہ نہیں تاہم یہ شروعات ہے۔ جب پاکستان کو مزید وسائل دستیاب ہوں گے تو اس میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ میں وزیراعلی پنجاب تھا اس وقت جو پولیس اہلکار یاآفیسر اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرتے تھے ان کو پہلے 30 لاکھ روپے دیئے جاتے تھے اور پھر اسے بعدازاں بڑھا کر 5 کروڑ روپے تک بڑھایا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خوشحال ہوگا تو صحافیوں کے لئے بھی اس فنڈ میں اضافہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی میں بڑی محنت سے کام کرتے ہیں۔ بطور وزیراعظم مجھے 16ماہ ہو چکے ہیں ۔ اس دوران مختلف کالم نگاروں نے تنقید بھی کی ہو گی تاہم میں نے آج تک اس کا برا نہیں منایا۔ یہ آپ کی ذمہ داری ہے، تنقید حقائق پر مبنی ہونی چاہیے ، اس سے رہنمائی اور مدد ملتی ہے اور اگر یہ تنقید حقائق کے برخلاف ہو تو اس سیبگاڑ پیداہوتاہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا