واشنگٹن: امریکی حکام اور وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ خاتمے اور نئے ایٹمی مذاکراتی فریم ورک پر اتفاق کے لیے ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) تیار کر لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک اس وقت کسی بھی سابقہ مرحلے کے مقابلے میں معاہدے کے زیادہ قریب ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا کو آئندہ 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے چند اہم نکات پر حتمی جواب کا انتظار ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر ایم او یو پر دستخط ہو جاتے ہیں تو فوری طور پر خطے میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا جائے گا، جس کے بعد 30 دن کے اندر اسلام آباد یا جنیوا میں تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔ ان مذاکرات میں پابندیوں کے خاتمے اور ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔
مجوزہ نکات کے مطابق اس عبوری مدت میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرتے ہوئے ایران کی جانب سے جہاز رانی پر پابندیاں اور امریکا کا بحری محاصرہ مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران 12 سے 15 سال تک یورینیئم کی افزودگی روکنے پر غور کر رہا ہے جبکہ امریکا اس مدت کو 20 سال تک بڑھانے کا خواہاں ہے۔ اس کے علاوہ ایران کی جانب سے اعلیٰ افزودہ یورینیئم ملک سے باہر منتقل کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس کے بدلے میں امریکا ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے اور پابندیوں میں نرمی پر آمادہ ہو سکتا ہے۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی قیادت کے اندر اختلافات اس عمل میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق صورتحال پیچیدہ ہے اور مکمل اعتماد کی فضا ابھی قائم نہیں ہو سکی۔
واضح رہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا کی جانب سے بحری محاصرہ دوبارہ بحال کرنے اور ممکنہ فوجی کارروائی کا آپشن برقرار رہے گا۔






