2023 الیکشن کا سال نہیں، راناثنااللہ

0
136

اسلام آباد(طلوع نیوز) وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہےکہ مردم شماری ہوجائے تو حلقہ بندیاں ضروری ہیں، نگران حکومت آئینی تقاضے کو پورا کرتے ہوئے حلقہ بندی کرائے گی،نگران وزیراعظم کے لیے حفیظ شیخ سمیت دیگر ناموں پر مشاورت ہورہی ہے ابھی کوئی نام فائنل نہیں ہوا جب کہ 2023 الیکشن کا سال نہیں ہے۔نجی ٹی وی گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ آئین میں درج ہے کہ 2017 میں جو مردم شماری ہوئی اس پر دوسرا الیکشن نہیں ہوسکتا، آئین میں درج ہے کہ مردم شماری ہوجائے تو حلقہ بندیاں ضروری ہیں، نگران حکومت آئینی تقاضے کو پورا کرتے ہوئے حلقہ بندی کرائے گی، حلقہ بندیوں میں تقریباً 120 دن لگتے ہیں اس میں کئی ماہ والی بات نہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن ملتوی نہیں ہوں گے اور نگران حکومت بروقت الیکشن کا انعقاد یقینی بنائے گی جب کہ نگران وزیراعظم کےلیے حفیظ شیخ یا دیگر ناموں پر ڈسکشن ہورہی ہے ابھی کوئی نام لاک نہیں ہوا، آج شام یا کل تک نگران وزیراعظم کا نام شاید فائنل ہوجائے۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں سے مذاکرات نہ کرنے کی پالیسی آج کی نہیں اس سے پہلے کی ہے، دہشتگردوں سے مذاکرات کے کوئی حوصلہ افزا نتائج نہیں نکلے، ایک صوبے میں امن و امان کی صورتحال ایسی ہے کہ زیادہ توجہ دی جائے۔رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ چار پانچ دن پہلے جے یو آئی کے جلسے میں دھماکا ہوا جس کا بہت نقصان ہوا، یہ چیزیں چلیں گی لیکن الیکشن اس وجہ سے آگے نہیں جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کا بیان سخت نہیں بڑا مدلل اور حالات کے مطابق صحیح جواب ہے ، پوری قوم آرمی چیف کے جواب کے ساتھ کھڑی ہے، ایک ہمسایہ ملک کی ایما پر امن وامان میں مداخلت برداشت نہیں کی جاسکتی، ہمسائے ملک سے آکر لوگ جو کررہے ہیں یہ کسی صورت برداشت نہیں ہوسکتا، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فوج آئے روز آپریشن کررہی ہے، قربانیاں بھی دے رہی ہے، دہشتگردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔وزیر داخلہ رانا ثنااللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا 2023 الیکشن کا سال ہے؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ’جی بالکل سیدھا جواب نہیں۔واضح رہے کہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی عندیہ دیا کہ عام انتخابات جنوری 2024 تک ملتوی کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری کو اتفاق رائے سے منظور کیا گیا، سی سی آئی میں تمام جماعتوں کی نمائندگی تھی،کسی سیاسی جماعت نے اس کی مخالفت نہیں کی۔فیصلہ اکثریت سے ہوتا ہے، دو ارکان مخالفت بھی کریں توکوئی فرق نہیں پڑتا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن میں تاخیر کی باتیں صرف سیاسی بیانات ہیں، الیکشن میں 90 روز کے بعد 35 سے 45 دن کا فرق تو آسکتا ہے، لیکن الیکشن60 دن سے زیادہ تاخیر کا شکار نہیں ہوں گے۔یہ بات انہوں نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ اور محسن داوڑ کی جانب سے مردم شماری میں دکھائے گئے اعداد و شمارپر تحفظات سے متعلق سوال کے جواب میں کی۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات سے پہلے عام انتخابات ہوجائیں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا