آرمی وآفیشل سیکرٹ ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج

0
141

اسلام آباد(طلوع نیوز)سندھ بار کونسل نے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔سندھ بار کونسل نے آئینی درخواست میں اپیل کی ہے کہ 9 اور 10 مئی کے حملوں میں ملوث افراد کے کیس سول عدالتوں میں منتقل کرنے کئے جائیں۔آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کیخلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں سندھ بار کونسل نے وزارت قانون، وزارت داخلہ، وزارت دفاع اور چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز کو فریق بنایا ہے۔درخواست سندھ بارکونسل کے وائس چیئرمین اظہر حسین، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی نعیم الدین قریشی اور ممبر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان سید حیدر امام رضوی کی جانب سے مشترکہ طور پر دائر کی گئی ہے۔سینئر وکیل صلاح الدین احمد کی جانب سے تیار کردہ یہ پٹیشن سپریم کورٹ میں دائر کردہ اس نوعیت کی پانچویں درخواست ہے۔درخواست میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آرمی ترمیمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ترمیمی ایکٹ کو صدارتی حمایت حاصل نہیں۔سندھ بار کونسل نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ دونوں ایکٹس کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔واضح رہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم عدالتوں میں پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمات کی سماعت جاری ہے جبکہ آرمی ایکٹ کے تحت 9 مئی واقعات میں ملوث افراد کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں کیا جارہا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا