چیئرمین پی ٹی آئی کا آرمی ترمیمی قانون، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کیخلاف عدالت سے رجوع

0
312

اسلام آباد(طلوع نیوز)چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی قانون کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔چیئرمین تحریک انصاف نے شعیب شاہین کی وساطت سے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی، درخواست میں صدر، سیکرٹری قومی اسمبلی، وزارت قانون اور داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ آرمی ترمیمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ آرٹیکل 10اے، آرٹیکل 8 اور آرٹیکل 19 کے منافی ہے، ایکٹ پر صدر مملکت نے دستخط نہیں کئے۔دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی قانون کو کالعدم قرار دیا جائے اور آئینی درخواست کے فیصلے تک دونوں قوانین کو معطل کیا جائے۔یاد رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل اور پاکستان آرمی ترمیمی بل پر دستخط کی تردید کردی تھی۔اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان میں عارف علوی نے کہا کہ خدا گواہ ہے، میں نے آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سے متفق نہیں ہوں۔انہوں نے لکھا کہ میں نے اپنے عملے سے کہا تھا کہ وہ دستخط کے بغیر بلوں کو مقررہ وقت کے اندر واپس بھیج دیں تاکہ انہیں غیر موثر بنایا جا سکے۔ڈاکٹر عارف علوی نے لکھا کہ میں نے عملے سے کئی بار تصدیق کی کہ آیا وہ (دستخط کے بغیر) واپس بھجوائے جاچکے ہیں اور مجھے یقین دلایا گیا کہ وہ واپس بھجوائے جاچکے ہیں، تاہم مجھے اب پتا چلا کہ میرا عملہ میری مرضی اور حکم کے خلاف گیا۔انہوں نے لکھا کہ اللہ سب جانتا ہے، وہ ان شا اللہ معاف کر دے گا لیکن میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو اس سے متاثر ہوں گے۔جب کہ سینئر پی ٹی آئی رہنما اور قانون دان حامد خان نے کہا کہ صدرِ مملکت نے معاملہ اپنے عملے پر چھوڑ دیا تھا، انہوں نے قانون پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ حامد خان کے مطابق قانون صدرِ مملکت کے دستخط کے بعد نافذ ہوتا ہے اور دونوں بلز پر صدرِ مملکت کے دستخط ہی نہیں ہیں، اس لئے دونوں بلز قانون نہیں بنے ہیں۔پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے بعد صدر منظوری نہ دے تو بل ختم ہوجاتا ہے، نئی پارلیمنٹ آئے گی تو بل پر دوبارہ غور ہوسکے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا