نئی دہلی: بھارت کی سپریم کورٹ نے پیر کے روز 11 ہندو مردوں کی جلد رہائی کو کالعدم قرار دے دیا انہیں 2002 میں ریاست گجرات میں ہندو مسلم فسادات کے دوران ایک حاملہ مسلم خاتون بلقیس بانو کساتھ اجتماعی عصمت دری اس کے رشتہ داروں اورتین سالہ بیٹی کو قتل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی،ایک سال قبل مجرموں کے اچھے برتاؤ کو مدنظر رکھا کرجلد رہائی کی سفارش کی گئی تھی لیکن عدالت نےان کی رہائی روک دی
ریاست میں پھیلنے والے فسادات کے دوران ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ جن میں زیادہ تر مسلمان ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اور ان کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی اب بھی ریاست پر حکومت کرتی ہے۔ 2022 میں جیل میں بند رہنے کے بعد ان کی رہائی کی سفارش کی گئی تھی جس میں انہوں نے جو وقت گزارا تھا اور ان کے اچھے برتاؤ کو مدنظر رکھا تھا۔





