ستمبر 2025 کی وہ شام آج بھی لاکھوں پاکستانیوں کی یادوں میں تازہ ہے جب اچانک آنے والے سیلابی ریلے نے بستیاں بہا دیں، کھیت کھنڈرات میں بدل گئے اور لوگ اپنے ہی گھروں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ بچے بھوک اور پیاس سے بلکتے رہے، مائیں اپنی جھولیوں میں ننھے وجود کو بچانے کی دعائیں کرتی رہیں، اور بزرگ بے بسی سے اپنی زمین کو پانی میں ڈوبتا دیکھتے رہے۔ یہ مناظر کسی ایک گاؤں یا ضلع تک محدود نہیں تھے بلکہ سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے وسیع علاقے ایک بار پھر پانی کے سمندر میں ڈوب گئے۔ یہ تباہی محض ایک قدرتی حادثہ نہیں تھی بلکہ اس حقیقت کی کھلی گواہی تھی کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے شکنجے میں کس حد تک جکڑا جا چکا ہے۔
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ اس کے عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہمیں ہر سال کسی نہ کسی نئی آفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 2022 کے ہولناک سیلاب نے ایک تہائی ملک کو ڈبو دیا تھا اور ابھی اس کے زخم بھر بھی نہ پائے تھے کہ 2025 کی بارشوں اور طوفانی ریلوں نے پھر وہی کہانی دہرا دی۔ لاکھوں خاندان ایک بار پھر بے گھر ہوئے، معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا اور زرعی پیداوار جو ہماری بقا کا سہارا ہے، برباد ہو گئی۔
یہ المیہ اس لیے بھی زیادہ کڑوا ہے کہ اس تباہی کے اسباب ہمارے ہاتھ میں نہیں تھے۔ ہم نے زمین کو اس نہج پر نہیں پہنچایا لیکن ہمیں سب سے زیادہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ گلگت بلتستان کے برفانی گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، کبھی اچانک آنے والے ریلے مقامی آبادیوں کو بہا لے جاتے ہیں اور کبھی پانی کی شدید کمی فصلوں کو سوکھا کر رکھ دیتی ہے۔ سندھ اور پنجاب کے میدانی علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں جہاں ہیٹ ویوز اب معمول بن چکی ہیں۔ بلوچستان اور تھر کے باسی خشک سالی اور پانی کی کمی سے لڑتے ہیں، اور شہروں میں لوگ سموگ اور آلودگی سے سانس لینے کے لیے ترستے ہیں۔
حکومت کی سطح پر کچھ اقدامات ضرور کیے گئے ہیں۔ بلین ٹری سونامی اور ٹین بلین ٹری سونامی جیسے منصوبے دنیا بھر میں سراہائے گئے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ جیسے عالمی فورمز پر متاثرہ ممالک کے لیے فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ کیا اور “لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ” کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ قومی ماحولیاتی پالیسی میں ایسے اہداف بھی رکھے گئے جن کا مقصد ماحولیاتی لچک پیدا کرنا تھا۔ لیکن یہ تمام کوششیں اس وقت ادھوری لگتی ہیں جب زمینی حقائق پر نظر ڈالی جائے۔ منصوبے زیادہ تر کاغذوں میں زندہ ہیں یا چند علاقوں تک محدود ہیں۔ حکومتیں بدلتی ہیں تو تسلسل ٹوٹ جاتا ہے، اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی کی وجہ سے اکثر وسائل ضائع ہو جاتے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں صورتحال اور بھی تشویش ناک ہے۔ ہم آج بھی درآمدی ایندھن پر انحصار کر رہے ہیں جس سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت پر بھی بھاری بوجھ پڑتا ہے۔ قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے جن پر برسوں سے بات ہو رہی ہے، تاحال بڑے پیمانے پر شروع نہیں ہو سکے۔ زرعی تحقیق کے میدان میں بھی ہماری رفتار سست ہے۔ کسان آج بھی پرانے طریقوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں، جب کہ موسمیاتی تبدیلی کے تقاضے بالکل مختلف ہیں۔
بڑے شہروں میں ماحولیاتی آلودگی ایک اور بڑی آزمائش ہے۔ لاہور میں ہر سال سموگ کا عذاب شہریوں کی صحت کو تباہ کر رہا ہے۔ کراچی، فیصل آباد اور پشاور میں فضائی آلودگی اور کچرے کے ڈھیر عام ہیں۔ صاف پانی کی فراہمی ایک خواب بنتی جا رہی ہے۔ یہ مسائل بتاتے ہیں کہ ہم نے اپنی شہروں کی منصوبہ بندی میں ماحولیات کو کہیں جگہ نہیں دی۔
اگر پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات سے بچنا ہے تو فوری اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ پانی کے مؤثر انتظام کے بغیر زراعت اور زندگی دونوں مشکل ہو جائیں گی۔ چھوٹے اور بڑے ڈیمز کے ساتھ ساتھ جدید آبپاشی نظام ناگزیر ہیں۔ شمسی اور ہوائی توانائی میں سرمایہ کاری سے نہ صرف ماحول دوست بجلی پیدا ہو سکتی ہے بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ زرعی شعبے میں تحقیق اور جدت کو فروغ دینا ہوگا تاکہ ایسے بیج اور طریقے اپنائے جائیں جو زیادہ درجہ حرارت اور خشک سالی کو برداشت کر سکیں۔ شجر کاری کی مہمات کے ساتھ ساتھ موجودہ جنگلات کے تحفظ پر بھی سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ عوامی شعور بیدار کرنا ہوگا۔ جب تک عام شہری یہ نہ سمجھے کہ یہ مسئلہ اس کی زندگی سے جڑا ہے تب تک تبدیلی ممکن نہیں۔ توانائی کے استعمال میں بچت، پلاسٹک کے کم استعمال، اور صفائی ستھرائی جیسے اقدامات ہر فرد کے بس میں ہیں۔ لیکن انفرادی کوششیں اس وقت کامیاب ہوں گی جب حکومت ایک جامع پالیسی کے ساتھ قیادت کرے اور اسے تسلسل کے ساتھ آگے بڑھائے۔
2025 کا سیلاب ایک بار پھر ہمیں یہ سبق دے گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کوئی آنے والا خطرہ نہیں بلکہ ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ یہ محض ایک سائنسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے جو ہمارے گھروں کو اجاڑ رہی ہے، ہماری زمینوں کو بنجر بنا رہی ہے اور ہماری معیشت کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس حقیقت کو سنجیدگی سے لیں گے یا پھر اگلے سیلاب تک سب کچھ بھلا دیں گے؟ وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان اس چیلنج کو اپنی بقا کا مسئلہ سمجھے اور اسے سیاست یا وقتی دعوؤں سے بالاتر ہو کر حل کرنے کی کوشش کرے۔ اگر ہم نے آج قدم نہ اٹھائے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔





