اسلام آباد(طلوع نیوز)وفاقی شرعی عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ خواجہ سرا اپنی جنس تبدیل نہیں کر سکتے، خواجہ سرا خود کو مرد یا عورت نہیں کہلوا سکتے۔۔خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق ٹرانس جینڈر ایکٹ کے خلاف درخواست پر قائم قام چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت سید محمد انور اور جسٹس خادم حسین نے فیصلہ سنادیا۔
وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ خواجہ سرا خود کو مرد یا عورت نہیں کہلوا سکتے۔وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ حکومت خواجہ سراؤں کو تمام حقوق دینے کی پابند ہے، اسلام خواجہ سراؤں کو تمام انسانی حقوق فراہم کرتا ہے۔وفاقی شرعی عدالت نے ٹرانس جینڈر ایکٹ کی سیکشن 2 اور 3 کو اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دے دیا۔
وفاقی شرعی عدالت کا کہنا ہے کہ جسمانی خدوخال کے مطابق کسی کو مرد یا عورت نہیں کہا جاسکتا، جسمانی خدوخال اور خود ساختہ شناخت پر کسی کو ٹرانس جینڈر قرار نہیں دیا جاسکتا۔عدالت نے فیصلے میں ٹرانس جینڈرز پروٹیکشن ایکٹ کے سیکشن 7 کو بھی اسلام و شریعت کے خلاف قرار دیا ہے۔وفاقی شرعی عدالت نے ٹرانس جینڈرز پروٹیکشن ایکٹ کے خلاف دائر درخواستیں نمٹا دیں۔ٹرانس جینڈر بل 2018 کے خلاف تمام پٹیشنز پر وفاقی شرعی عدالت نے 11 مئی کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔





