یمن کے نگراں صدر رشاد العلیمی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ غزہ اور یمن عالمی ضمیر اور اقوام متحدہ کی ساکھ کے لیے ایک امتحان بن چکے ہیں۔
رشاد العلیمی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون محض “افسانہ” نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ انہوں نے فلسطینی مسئلہ عرب عوام کا مرکزی مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ یمنی عوام دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
یمنی صدر نے حوثی باغیوں کو “انتہا پسند دہشت گرد گروہ” قرار دیتے ہوئے ایران پر الزام لگایا کہ وہ باغیوں کو ممنوعہ ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یمن میں امن قائم کرنے کے لیے ایک مؤثر بین الاقوامی اتحاد تشکیل دیا جائے جو ریاستی اداروں کی بحالی اور ملک کو ملیشیاؤں کے چنگل سے آزاد کرائے۔
رشاد العلیمی نے کہا کہ یمن کا بحران صرف داخلی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی جانوں اور امن کے لیے فوری اقدامات کرے۔






