قاہرہ سے ایک افسوسناک خبر سامنے آئی ہے جہاں مصری عجائب گھر سے چوری ہونے والا 3 ہزار سال پرانا قیمتی سونے کا کڑا خطیر قیمت پر فروخت کردیا گیا۔
مصری پولیس کے مطابق، یہ کڑا 21 ویں خاندان کے فرعون امینیموپ کے دور کا تھا اور لاپیس لازولی موتیوں سے مزین تھا۔ عجائب گھر کے عملے نے گزشتہ ہفتے اس کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی تھی۔ تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ 9 ستمبر کو ڈیوٹی کے دوران عجائب گھر کے ایک ملازم نے یہ کڑا چرا لیا اور بعد ازاں اپنے 3 ساتھیوں کی مدد سے فروخت کردیا۔
یہ تاریخی ورثہ صرف 4 ہزار ڈالرز میں بیچا گیا، اور خریدار نے کڑا خریدنے کے بعد اسے پگھلا دیا۔ پولیس نے ملازم سمیت چاروں ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس واقعے کو تاریخی نوادرات کی اسمگلنگ اور عالمی بلیک مارکیٹ کے تناظر میں بھی تجزیہ کروں؟






