ایران نے اپنے شہری بہمن چوبی کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں سزائے موت دے دی۔ ایرانی عدلیہ کے مطابق وہ موساد کو حساس اور خفیہ معلومات فراہم کرتا تھا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ بہمن چوبی ایران میں درآمد ہونے والے الیکٹرانک آلات کے راستوں سے متعلق معلومات دیتا رہا جس کے ذریعے دشمن ملک ایرانی ڈیٹا سینٹرز تک پہنچ گیا۔
سپریم کورٹ نے اپیل مسترد کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی اور اسے “فساد فی الارض” کے زمرے میں قرار دیا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ایران پر اقوامِ متحدہ نے دوبارہ پابندیاں لگائی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صرف تین ماہ میں ایران 9 مبینہ اسرائیلی جاسوسوں کو پھانسی دے چکا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ 2025 میں اب تک ایک ہزار سے زائد قیدیوں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔






