شیریں مزاری کی دوبارہ گرفتاری توہین عدالت کا فٹ کیس ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

0
168

اسلام آباد(طلوع نیوز)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج میاں گل حسن اورنگرزیب نے ریمارکس دیئے ہیں کہ شیریں مزاری کی دوبارہ گرفتاری توہین عدالت کا فٹ کیس ہے ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی نئی عمارت میں کیسوں کی باقاعدہ سماعت کا آغاز ہوگیا۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتاری پر دائر توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔اس موقع پر آئی جی اسلام آباد، پولیس حکام اور ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس حسن میاں گل اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا آپ اس گرفتاری کا دفاع کر رہے ہیں؟۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ چیف کمشنر نے پنجاب پولیس کی درخواست پر مناسب اقدامات کی ہدایت کی۔

جسٹس حسن میاں گل اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ وفاقی پولیس نے چیف کمشنر کے احکامات مانے اور عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی، یہ توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرنے کے لیے فِٹ کیس ہے۔جسٹس حسن اورنگزیب نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خود کو مزید شرمندہ مت کریں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آنکھیں بند کرکے غیرقانونی کام ہونے دوں؟۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ہمیں جیل میں ملاقات کی بھی اجازت نہیں۔عدالت نے جیل حکام سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے انہیں ملاقات سے منع کیا،

جس پر جیل پولیس افسر نے بتایا کہ ہم نے ان کی 2 ملاقاتیں کروائیں لیکن آخری بار ہفتے کی شام کو یہ آئے، میں نے انہیں کہا کہ آپ دیر سے آئے ہیں آپ صبح سویرے آجائیں۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ یاد رکھیں یہ ایم پی او کے تحت جیل میں ہیں کوئی ملزم نہیں، یہ لوگ کسی کریمنل کیس میں ملزم نہیں، اس حوالے سے مناسب حکم نامہ جاری کریں گے، توہین عدالت کی درخواست میں آئی جی اسلام آباد کو فریق نہیں بنایا گیا،

درخواست پر آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کا نوٹس جاری نہیں کیا جاسکتا۔شیریں مزاری کے وکیل نے کہا کہ ہم اپنی درخواست میں ترمیم کردیتے ہیں۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری کیس میں عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی تھی، عدالت نے حکومت کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کیا، اس پر حکم نامہ جاری کریں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا