شکیب الحسن اب کبھی بنگلا دیش کیلئے نہیں کھیل سکیں گے

0
154

بنگلا دیشی آل راؤنڈر شکیب الحسن پر قومی ٹیم کے لیے کھیلنے پر پابندی لگا دی گئی۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے جلاوطنی کے دوران سوشل میڈیا پر سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے ساتھ اپنی پرانی تصویر شیئر کی اور انہیں سالگرہ کی مبارک باد دی۔

اس پوسٹ کے بعد نوجوان اسپورٹس ایڈوائزر آصف محمود نے بالواسطہ طور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ درست تھے کہ شکیب کو دوبارہ بحال نہ کیا جائے۔ جواب میں شکیب الحسن نے ایک اور پوسٹ میں لکھا کہ آخرکار تسلیم کر لیا گیا کہ صرف اسی وجہ سے وہ دوبارہ بنگلا دیش کی جرسی نہیں پہن سکتے۔ انہوں نے کہا کہ شاید ایک دن وہ اپنی مادرِ وطن واپس آئیں گے کیونکہ وہ بنگلا دیش سے محبت کرتے ہیں۔

ایک نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے آصف محمود نے کہا کہ شکیب عوامی لیگ کی سیاست سے وابستہ ہیں اور انہیں بنگلا دیش کا جھنڈا تھامنے یا قومی جرسی پہننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کرکٹ بورڈ کو واضح ہدایت دی ہے کہ شکیب الحسن اب کبھی بھی قومی ٹیم کا حصہ نہ بن سکیں۔

دوسری جانب شکیب الحسن نے وضاحت دی کہ ان کی پوسٹ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کے مطابق حسینہ واجد کرکٹ میں گہری دلچسپی رکھتی تھیں اور اسی تعلق کی بنیاد پر انہوں نے انہیں سالگرہ کی مبارک باد دی۔

خیال رہے کہ شکیب الحسن بنگلا دیش کے کامیاب ترین کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں اور اکتوبر 2024 میں بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں انہوں نے آخری بار ملک کی نمائندگی کی تھی۔ وہ عوامی لیگ کے رکن پارلیمنٹ بھی رہ چکے ہیں تاہم حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے وطن واپس نہیں آئے۔ گزشتہ سال وہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ایک نوجوان کے قتل کے مقدمے میں بھی نامزد ہوئے تھے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا