ٹرمپ کا امن پلان: ماہرین کی رائے

0
129

سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے ٹرمپ کے امن پلان کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے فلسطین میں خون خرابہ رکنے کی امید پیدا ہوئی ہے کیونکہ نہ تو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو رکنے پر آمادہ تھے اور نہ ہی امریکا۔ اعزاز چوہدری نے کہا کہ نیتن یاہو کے گریٹر اسرائیل کے مقاصد پورے نہیں ہوئے، نہ ہی پورے غزہ پر قبضہ ہوا اور نہ ہی فلسطینیوں کو ملک بدر کرنے کی سازش کامیاب ہوئی۔

سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ ٹرمپ کے امن پلان میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا، جو ایک بڑی کمی ہے۔

دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر قمر چیمہ نے رائے دی کہ اس امن پلان میں پاکستان کو اہم کردار ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے مسئلہ فلسطین کے حل میں عالم اسلام کی مشاورت چاہتا تھا اور یہ پہلو اس منصوبے میں شامل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نریندر مودی، جو پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کر رہے تھے، ان کے قریبی اتحادی نیتن یاہو نے اس معاملے پر ان سے کوئی مشاورت تک نہیں کی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا