لاہور: پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ حکومت یا اتحادیوں کی تنقید پر “زبان بند اور ہاتھ توڑنے” جیسے لہجے کا استعمال مناسب نہیں ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے مختلف بحرانوں کا شکار رہا ہے اور ہر دور میں مسائل سے نمٹنے کی کوشش کی گئی۔ اُن کا کہنا تھا کہ کچھ دنوں سے اٹھائے جانے والے سوالات مناسب نہیں، اور یہ رائے دینے کا جمہوری حق ہے۔
رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) جمہوری طریقے سے تنقید کرے لیکن ماضی والا لہجہ استعمال نہ کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو نے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں کے کاموں کی تعریف کی، لیکن اتحادی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت جو چاہے کر سکتی ہے۔
قمر زمان کائرہ نے زور دیا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ حکومت کی حمایت کی، تجاویز دیں اور سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے رائے دی، لیکن بعض اوقات اس پر سیخ پا ہونے کا ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام غربت کی روک تھام کے حوالے سے بہترین پروگرام ہے اور اس میں بھیک مانگنے کی بات کہاں سے آ گئی۔
رہنما پیپلزپارٹی نے حکومت کو نصیحت کی کہ اختلاف رائے کو جمہوری انداز میں سنیں اور تحمل سے بات کریں، تاکہ وفاق مضبوط رہے اور عوامی مسائل کا حل ممکن ہو سکے۔





