سندھ میں آٹے کی قیمتوں میں پھر اضافہ،ذخائر موجود ہونے کے باوجود ریٹیلرز پریشان

0
220

کراچی: سندھ میں سرکاری اور نجی سطح پر گندم کے وافر ذخائر موجود ہونے کے باوجود آٹے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ریٹیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین فرید قریشی نے بتایا کہ حکومت سندھ نے 22 ستمبر کو آٹے کی فی کلو تھوک قیمت 94 روپے اور خوردہ قیمت 98 روپے مقرر کی تھی، لیکن اب گندم کی فی کلو قیمت 86 روپے سے بڑھ کر 93 روپے تک پہنچنے کے باعث ریٹیل سطح پر آٹے کی قیمت میں 3 روپے اضافہ ہوا ہے۔

ان کے مطابق فلور ملیں حکومت کے مقررہ نرخوں پر آٹا فراہم نہیں کر رہیں اور ڈھائی نمبر آٹا 104 روپے فی کلو جبکہ فائن آٹا 112 روپے میں سپلائی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قیمتوں پر کنٹرول کے لیے فوری اقدامات کرے۔

دوسری جانب آل پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالجنید عزیز نے کہا کہ گندم کی اوپن مارکیٹ میں فی کلو قیمت 93 روپے تک بڑھ گئی ہے لیکن اس کے باوجود فلور ملیں ڈھائی نمبر آٹا 100 تا 101 روپے اور فائن آٹا 107 تا 107.50 روپے میں فراہم کر رہی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ گندم کا کوئی بحران نہیں ہے بلکہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ طلب اور رسد کی وجہ سے سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے پاس 1 کروڑ 30 لاکھ ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں جبکہ نجی شعبہ اور فلور ملیں بھی گندم محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ البتہ دسمبر اور جنوری میں فلور ملوں کو مزید ذخائر کی ضرورت ہوگی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا