سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پی ٹی آئی کو مرکزی فیصلے میں جو ریلیف ملا، وہ برقرار نہیں رہ سکتا کیونکہ پارٹی مقدمے میں فریق ہی نہیں تھی۔ عدالت نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی چاہتی تو بطور فریق شامل ہو سکتی تھی، مگر ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا گیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ 80 آزاد امیدواروں میں سے کسی نے بھی دعویٰ نہیں کیا کہ وہ پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں یا مخصوص نشستیں انہیں ملنی چاہئیں۔ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دی تھیں، اور مرکزی فیصلے میں ان جماعتوں کو بغیر سنے ڈی سیٹ کر دینا قانون اور انصاف کے خلاف تھا۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ سنی اتحاد کونسل اور اس کے چیئرمین کا رویہ قابل ستائش نہیں تھا، وکیل نے کیس میں تاخیر پیدا کرنے کے لیے غیر ضروری درخواستیں دیں، اور نظرثانی درخواست دائر نہیں کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی نہ سپریم کورٹ میں فریق تھی، نہ ہائی کورٹ یا الیکشن کمیشن میں، اور فیصلے میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ پی ٹی آئی انتخابات نہیں لڑ سکتی۔
فیصلے میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے امیدواران نے آزاد قرار دیے جانے والے فیصلے کو غلط سمجھا اور مکمل انصاف کے نام پر اس فریق کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا جو مقدمے میں فریق ہی نہ ہو۔ عدالت نے اکثریتی ججز کے اقلیتی ججز کو نکال کر خصوصی بنچ بنانے کو غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ کو آئین کی تشریح کرتے ہوئے اسے دوبارہ لکھنے کا اختیار نہیں ہے۔






