اسلام آباد: سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بینچ نے سپر ٹیکس کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ سپر ٹیکس کا مطلب ہی اضافی ٹیکس ہے اور اس کو واضح کرنے کی ضرورت نہیں۔
سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں ہوئی، جس میں مختلف ٹیکس پیئر کمپنیوں کے وکیل فروغ نسیم نے دلائل دیے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ انکم ٹیکس شق 99 ڈی میں ترمیم پر دیگر ہائی کورٹس کا کیا فیصلہ ہے، جس پر وکیل نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے ترمیم خارج کر دی، جبکہ اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں۔
وکیل نے کہا کہ بینکوں پر سپر ٹیکس 10 فیصد ملا کر 53 فیصد ہو جاتا ہے اور یہ معیشت کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ سب سے بڑا مسئلہ یہاں تھنک ٹینکس کا نہ ہونا ہے۔
دلائل میں پارلیمنٹ اور آئین کی اہمیت بھی زیر بحث آئی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین پارلیمنٹ سے ہی بنتا ہے، جبکہ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ سپر ٹیکس کا مطلب اضافی ٹیکس ہے اور اسے الگ وضاحت کی ضرورت نہیں۔
سپریم کورٹ نے سماعت کل تک ملتوی کر دی، اور مختلف ٹیکس پیئر کمپنیوں کے وکیل فروغ نسیم آئینی دلائل آئندہ ہفتے جاری رکھیں گے۔






