غزہ امن معاہدہ: اسحاق ڈار نے 20 نکاتی ڈرافٹ کو مسترد کردیا، قائداعظم کی پالیسی پر قائم

0
202

اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ غزہ امن معاہدے کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے 20 نکات وہ نہیں جو اسلامی ممالک نے تیار کیے تھے، اس ڈرافٹ میں تبدیلی کی گئی ہے جو ہمیں قبول نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان فلسطین کے حوالے سے قائداعظم کی پالیسی پر ہی گامزن ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قوم کی بھرپور نمائندگی کی، کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ اٹھایا اور اسرائیل کو کھلے عام بے نقاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عرب ممالک غزہ میں خونریزی رکوانے میں ناکام رہے ہیں، اسی لیے امریکا کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ روزانہ معصوم جانوں کے ضیاع کو روکا جاسکے۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ جب ہمیں 20 نکاتی ایجنڈا دیا گیا تو اسلامی ممالک کی جانب سے ترمیمی پلان تیار ہوا، مگر فائنل ڈرافٹ میں ایسی تبدیلیاں شامل کر دی گئیں جو قابلِ قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں مکمل جنگ بندی اور تعمیر نو ناگزیر ہے، یہ مسئلہ صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پوری مسلم امہ کی ذمہ داری ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ صمود فلوٹیلا واقعے میں پاکستانی بھی شامل تھے اور سابق سینیٹر مشتاق احمد کو بھی تحویل میں لیا گیا، پاکستان ان سمیت تمام گرفتار افراد کی رہائی کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ معاہدے پر بات کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ یہ معاہدہ اچانک نہیں ہوا بلکہ پی ڈی ایم دور میں اس پر مذاکرات شروع ہوئے تھے، موجودہ حکومت نے اسے حتمی شکل دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مزید ممالک شامل ہوئے تو یہ اتحاد نیٹو کی طرح مؤثر ہوگا اور پاکستان مسلم امہ کی قیادت کرے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا