صدر کا ججز ٹرانسفر نوٹیفکیشن بے اثر،اختلافی نوٹ

0
87

اسلام آباد: ججز تبادلہ اور سنیارٹی کیس میں سپریم کورٹ کے جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شکیل احمد کا اختلافی نوٹ جاری کر دیا گیا۔

جسٹس نعیم اختر افغان کے تحریر کردہ اختلافی نوٹ میں 40 صفحات شامل ہیں۔ نوٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر پاکستان کا ججز ٹرانسفر نوٹیفکیشن بے اثر اور قانوناً کوئی حیثیت نہیں رکھتا، اور آرٹیکل 200 کے تحت ٹرانسفر صرف عارضی ہو سکتا ہے، مستقل نہیں۔

اختلافی نوٹ میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ صدر مملکت نے بغیر شفاف معیار اور بامعنی مشاورت کے فیصلہ کیا، جس سے ٹرانسفر کا عمل عدالتی آزادی اور تقرری کے آئینی طریقہ کار کے منافی ہے۔

نوٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے خط کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس خط میں ججز نے دباؤ، بلیک میلنگ اور غیر قانونی نگرانی کا ذکر کیا، اور کہا کہ سیاسی مقدمات میں فیصلے انجینئر کرنے کی کوششیں ہوئیں، اور ججز کی منتقلی کا مقصد اسلام آباد ہائیکورٹ کی آزادی پر اثر انداز ہونا تھا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا