اسلام آباد: عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان سرخ کپڑوں میں ملبوس پارٹی گارڈز کی حفاظت میں پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے۔
میڈیا سے گفتگو میں ایمل ولی خان نے خبردار کیا کہ اگر انہیں یا ان کے خاندان کو کچھ ہوا تو اس کے ذمے دار وفاقی وزیر داخلہ ہوں گے۔
دوسری جانب میئر مردان حمایت مایار کی اپیل پر اے این پی کے مسلح کارکن ایمل ولی کی حفاظت کے لیے مردان میں جمع ہوگئے۔ میئر مردان نے کہا کہ اگر ریاست سکیورٹی نہیں دے گی تو کارکن خود اپنے لیڈر کی حفاظت کریں گے۔
ترجمان اے این پی کا کہنا ہے کہ آئی جی خیبر پختونخوا اور ڈی آئی جی مردان نے وزیراعلیٰ کے احکامات نظرانداز کر دیے، صرف آٹھ اہلکار ولی باغ پر فوٹو شوٹ کرا کے واپس چلے گئے اور تاحال کوئی سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔
دوسری طرف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایمل ولی خان کی سکیورٹی کے لیے 12 اہلکار تعینات کیے جا چکے ہیں۔





