مذاکرات کا پہلا دور مکمل، حماس نے جنگ بندی کے لیے قیدیوں کی رہائی اور انسانی امداد کی شرائط رکھ دیں

0
212

قاہرہ: غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے حماس، اسرائیل اور ثالث ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مصر کے شہر شرم الشیخ میں مکمل ہوگیا۔ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ آج دوبارہ شروع ہوگا۔

ذرائع کے مطابق حماس کے وفد کی قیادت سینئر رہنما خلیل الحیہ نے کی، جبکہ امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے شرکت کی۔ رات گئے تک جاری رہنے والے مذاکرات میں قطر اور مصر کے وفود نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔

فلسطینی عہدیداروں کے مطابق حماس نے یرغمالیوں کی رہائی، غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا اور اس عمل کے لیے ٹائم لائن کی تجاویز پیش کیں۔ عرب میڈیا کے مطابق حماس نے چھ سرکردہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔ تنظیم نے اس بات کی ضمانت طلب کی کہ اسرائیل، یرغمالیوں کی رہائی کے بعد معاہدے کی پاسداری کرے گا۔

اسرائیلی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الحال توجہ یرغمالیوں کی رہائی پر مرکوز ہے اور حماس کو چند دن کا وقت دیا گیا ہے۔ اسرائیل نے عندیہ دیا ہے کہ وہ فی الحال فوج کو مکمل طور پر واپس بلانے پر تیار نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک بفر زون قائم کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔ مزید انخلا حماس کے ساتھ طے پانے والی شرائط پر منحصر ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ کے مطابق صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یرغمالیوں کی رہائی کا عمل جلد مکمل ہو تاکہ مذاکرات اگلے مرحلے میں داخل ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان یرغمالیوں اور سیاسی قیدیوں کی فہرستوں پر بات چیت جاری ہے۔

ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے مذاکراتی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے تیزی سے پیش رفت کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے غزہ کا کنٹرول چھوڑنے سے انکار کیا تو اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا