بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے نئی دہلی میں ملاقات کی
نئی دہلی — بھارت نے اعلان کیا ہے کہ وہ چار برس بعد افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ فعال کرے گا۔ یہ اعلان بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا، جو جمعے کے روز نئی دہلی میں ہوئی۔
بھارت نے اگست 2021 میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد کابل میں اپنا سفارتخانہ بند کر دیا تھا، تاہم 2022 میں انسانی ہمدردی، تجارت اور طبی سرگرمیوں کے لیے ایک محدود مشن دوبارہ قائم کیا گیا تھا۔ اب اس تکنیکی مشن کو مکمل سفارتخانے کا درجہ دینے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔
جے شنکر نے ملاقات کے دوران کہا کہ بھارت افغانستان کی “خودمختاری، سالمیت اور آزادی کا مکمل احترام کرتا ہے” اور دونوں ملکوں کا قریبی تعاون خطے میں ترقی اور استحکام کا باعث بنے گا۔
افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے بھارت کو افغانستان کا “قریبی دوست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ زلزلے کے بعد سب سے پہلے بھارت نے امداد فراہم کی۔ ان کے مطابق افغانستان بھارت کے ساتھ تعلقات باہمی احترام، تجارت اور عوامی روابط کی بنیاد پر آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
اگرچہ بھارت نے تاحال طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، لیکن اعلیٰ حکام کی ملاقاتوں اور رابطوں سے تعلقات میں نرمی اور تدریجی پیش رفت کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امیر خان متقی حال ہی میں ماسکو میں ہونے والے ایک علاقائی اجلاس میں شریک ہوئے جس میں پاکستان، ایران، چین اور وسطی ایشیائی ممالک نے امریکا کی بگرام ایئربیس پر دوبارہ کنٹرول کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔






