واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ جاری ہے اور وہ اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کو بھی ماضی میں ٹیرف کے ذریعے روکا تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگیں ختم کرانے میں مہارت رکھتے ہیں اور واپس آکر صورتحال کا جائزہ لیں گے۔
غزہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہاں جنگ ختم ہوچکی ہے اور ’’بورڈ آف پیس‘‘ جلد قائم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی برقرار رہے گی اور یرغمالیوں کی رہائی مقررہ وقت سے پہلے ممکن ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہت اچھا کام کیا، جبکہ قطر کو بھی سہرا جانا چاہیے۔ انہوں نے یوکرین جنگ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر تنازع ختم نہ ہوا تو یوکرین کو ٹوماہاک میزائل بھیجنے پر غور ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر اپنے دورے میں پہلے اسرائیل جائیں گے، جہاں وہ رہا یرغمالیوں اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کریں گے۔ اس دوران پارلیمنٹ سے خطاب اور عسکری و سیاسی قیادت سے ملاقاتیں بھی طے ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق ٹرمپ اسرائیل کے بعد مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والی غزہ امن سمٹ میں شرکت کریں گے۔ اس سمٹ میں 20 سے زائد ممالک کے سربراہان کی شرکت متوقع ہے اور حماس و اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔
عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ سیکیورٹی معاہدے کی تجاویز بھی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔






