عدالتی بنچز خواہشات پر نہیں، آئین و قانون کے مطابق تشکیل پاتے ہیں:سپریم کورٹ

0
326

سپریم کورٹ میں آئینی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ عدالتی بنچز خواہشات کے مطابق نہیں بلکہ آئین و قانون کے مطابق تشکیل پاتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے آئینی بنچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ نے آئینی ترمیم کے خلاف کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت وکیلِ درخواست گزار عزیر بھنڈاری نے مؤقف اختیار کیا کہ ماضی کی طرح فل کورٹ تشکیل دیا جائے، یا سپریم کورٹ کے تمام چوبیس ججز کو شامل کر کے فل کورٹ بنایا جائے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا اکتیس اکتوبر دو ہزار چوبیس والی کمیٹی کو ایسا اختیار حاصل تھا کہ وہ اس نوعیت کا فیصلہ کر سکتی تھی؟ کیا کمیٹی نے آئین و قانون کے مطابق فیصلہ کیا؟

جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 191 اے کو معطل کیے بغیر ایسا حکم کیسے دیا جا سکتا ہے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیا آئینی بنچ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جوڈیشل آرڈر کے ذریعے کوئی اور بنچ تشکیل دے؟

جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزاروں کو اس آئینی بنچ پر اعتماد کیوں نہیں ہے؟ اس پر وکیلِ درخواست گزار نے کہا کہ آئینی ترمیم میں ایسا کوئی میکانزم نہیں ہے جس کے تحت جوڈیشل کمیشن ججز کی نامزدگی کے لیے انتخاب کر سکے۔

جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ کہا جائے کہ آرٹیکل 191 اے کے تحت نامزد ججز ہی آئینی کیسز سن سکتے ہیں تو سپریم کورٹ کا اختیار سماعت تو جوڈیشل کمیشن کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔ اگر کسی جج کو آئینی بنچ کے لیے نامزد نہ کیا جائے تو پھر کیا سپریم کورٹ میں کوئی کیس نہیں سنا جائے گا؟

عدالت نے کیس کی مزید سماعت دس نومبر تک ملتوی کر دی اور قرار دیا کہ سماعت بنچ کی دستیابی کی صورت میں ہوگی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا