تھائی لینڈ کی سابق ملکہ انتقال کر گئیں،1 سالہ قومی سوگ کا اعلان

0
367

بینکاک: تھائی لینڈ کے بادشاہ مہا وجیرا لونگکورن کی والدہ اور سابق ملکہ سرکِت 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ وہ اپنے زمانے میں فیشن، وقار اور شائستگی کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔

شاہی محل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، ملکہ سرکِت نے بینکاک کے ایک اسپتال میں دورانِ علاج دم توڑا۔ وہ 2019 سے مختلف امراض میں مبتلا تھیں اور حال ہی میں انھیں خون کے انفیکشن کا سامنا تھا۔

ملکہ سرکِت کو 2012 میں فالج کا حملہ ہوا تھا جس کے بعد وہ عوامی تقریبات میں شاذونادر ہی شرکت کرتی تھیں۔

تھائی عوام انہیں ’’قوم کی ماں‘‘ کے طور پر یاد کرتے ہیں، اور ان کی سالگرہ 12 اگست کو ہر سال ’مدرز ڈے‘ کے طور پر منائی جاتی ہے۔

ملکہ سرکِت کو اپنے دور میں فیشن کی عالمی علامت مانا جاتا تھا۔ وہ اکثر بین الاقوامی “بہترین لباس زیب تن کرنے والی شخصیات” کی فہرستوں میں شامل رہتی تھیں۔

ملکہ سرکِت نے چھ دہائیوں سے زائد عرصہ تھائی لینڈ کے طویل ترین دورِ حکومت رکھنے والے بادشاہ بھومی بول ادولیادیج کے ساتھ گزارا، جن کا انتقال 2016 میں ہوا۔

شاہی محل کے مطابق بادشاہ مہا وجیرا لونگکورن نے ہدایت دی ہے کہ ان کی آخری رسومات شاہی اہتمام سے ادا کی جائیں۔ ان کی میت بینکاک کے گرینڈ پیلس کے دُسِت تھرون ہال میں رکھی جائے گی جہاں عوام اور شاہی خاندان کے افراد تعزیت کے لیے آئیں گے۔

ملکہ سرکِت 12 اگست 1932 کو پیدا ہوئیں۔ ان کے والد اس وقت فرانس میں تھائی سفیر تھے۔ پیرس میں ان کی ملاقات نوجوان بادشاہ بھومی بول سے ہوئی، جن سے انہوں نے 28 اپریل 1950 کو شادی کی، صرف ایک ہفتہ قبل بادشاہ تخت نشین ہوئے تھے۔

بطور نوجوان شاہی جوڑا، وہ 1960 کی دہائی میں دنیا بھر کے دوروں پر نکلے اور امریکی صدر ڈوائٹ آئزن ہاور، ملکہ الزبتھ دوم اور گلوکار ایلوس پریسلے سمیت عالمی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔

تھائی شاہی خاندان کے تمام ارکان نے ایک سالہ قومی سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا