استنبول: پاکستان نے میزبان ملک ترکیہ کی درخواست پر افغان طالبان سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث آج وطن واپسی والا تھا، تاہم میزبانوں کی درخواست پر وفد نے استنبول میں مزید قیام کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مذاکراتی عمل کو ایک اور موقع دیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت پاکستان کے بنیادی مطالبے پر ہی آگے بڑھے گی کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور دہشت گردوں کے خلاف واضح، قابلِ تصدیق اور مؤثر کارروائی کرے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ افغان حکام نے بھی سفارتی سطح پر رابطے کیے ہیں جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات دوبارہ بحال ہو رہے ہیں، جبکہ ترکیہ چاہتا ہے کہ اس کی میزبانی میں ہونے والی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوں۔
طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ اور قطر میں افغانستان کے سفیر سہیل شاہین نے کہا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک اور دورِ مذاکرات ضروری ہے، کیونکہ ایسے مذاکرات ایک ہی بیٹھک میں مکمل نہیں ہوتے۔






