وفاقی وزارتِ خزانہ نے آئندہ تین برس کے لیے میکرو اکنامک اور فسکل فریم ورک جاری کرتے ہوئے اہم معاشی اہداف مقرر کر دیے ہیں۔ اعلامیے کے مطابق برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ جبکہ معاشی شرحِ نمو کے 4.2 فیصد سے بڑھ کر 5.7 فیصد تک جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
فریم ورک کے مطابق آئندہ تین برس میں پاکستان کی برآمدات میں 10 ارب ڈالر سے زائد اضافہ متوقع ہے، جس سے برآمدات کا حجم 44.83 ارب ڈالر سے بڑھ کر 55 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ اشیا کی برآمدات 42.69 ارب ڈالر اور خدمات کی برآمدات 12.24 ارب ڈالر تک جانے کا تخمینہ ہے۔
رواں مالی سال کے لیے اشیا کی برآمدات 35.28 ارب ڈالر اور سروسز کی برآمدات 8.38 ارب ڈالر رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح درآمدات میں بھی اضافہ متوقع ہے جو تین سال میں بڑھ کر 79.71 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
ترسیلاتِ زر کے حوالے سے بتایا گیا کہ تین سال میں ان کا حجم 44.82 ارب ڈالر تک جانے کی توقع ہے، جبکہ رواں سال ترسیلات 39.43 ارب ڈالر رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق آئندہ تین برس میں ملکی معیشت کا مجموعی حجم بڑھ کر 162,513 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ رواں سال یہ حجم 129,567 ارب روپے رہنے کی توقع ہے۔ معاشی شرحِ نمو بھی بتدریج بڑھتے ہوئے 5.7 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔






