۔27ویں ترمیم: دستبردار شقیں شامل ہوئیں تو سخت مخالفت کریں گے، مولانا فضل الرحمان

0
401

اسلام آباد: جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر 26ویں ترمیم سے نکالی گئی کوئی شق مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم میں شامل کی گئی تو اسے آئین کی توہین سمجھتے ہوئے سخت مخالفت کی جائے گی۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان کو بریفنگ دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترمیم پر بحث جاری ہے لیکن ابھی تک کوئی مسودہ سامنے نہیں آیا، مسودہ آنے پر ہی حتمی رائے دی جا سکتی ہے۔

مولانا نے کہا کہ 26ویں ترمیم میں حکومت 26 شقوں سے دستبردار ہوئی تھی، اگر وہ شقیں دوبارہ شامل کی گئیں تو یہ قابل قبول نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پیش کرنے اور ان پر بحث کرنے کا وعدہ پورا نہیں ہوا جبکہ سود کے خاتمے پر بھی کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔

جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ مدارس کو وزارت تعلیم کے تحت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور رجسٹریشن روک دی گئی ہے، جو قابل تشویش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبوں کے اختیارات کم کرنے کی کسی بھی کوشش کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 27ویں ترمیم کے لیے کھینچ تان کر دو تہائی اکثریت حاصل کی جا رہی ہے، جس کا نقصان ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ افغانستان سے مذاکرات کامیاب ہوں گے لیکن صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا