تہران خالی کرنا پڑے گا، ایرانی صدر

0
521

تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں جلد بارش نہ ہوئی تو دارالحکومت تہران کو شدید آبی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں شہر کو خالی کرانے تک کی نوبت آسکتی ہے۔

مغربی ایران کے شہر سنندج کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ حکومت بیک وقت معاشی، ماحولیاتی اور سماجی بحرانوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کو پانی فراہم کرنے والے مرکزی ڈیم میں صرف دو ہفتوں کا پانی باقی رہ گیا ہے۔

ایرانی صدر نے قحط سالی کے باعث پیدا ہونے والے پانی کی قلت کو ملک کے سنگین ترین قدرتی چیلنجز میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بارش نہ ہوئی تو اگلے ماہ تہران میں پانی کی فراہمی محدود کرنا پڑے گی۔ ان کے مطابق خشک سالی برقرار رہی تو پانی کی کمی اتنی بڑھ سکتی ہے کہ شہر خالی کرانے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

انہوں نے پانی اور توانائی کے وسائل کے بہتر انتظام اور تحفظ کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔

تہران کو پانی کی فراہمی پانچ بڑے ڈیموں—لار، ماملو، امیرکبیر، طالقان اور لتیان—سے ہوتی ہے، جن میں امیرکبیر سب سے بڑا ڈیم ہے۔

تہران واٹر اتھارٹی نے 20 جولائی کو خبردار کیا تھا کہ شہر کے پانی کے ذخائر گزشتہ سو سال کی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اتھارٹی کے سربراہ بہزاد پارسا نے بھی کہا تھا کہ اگر خشک موسم برقرار رہا تو ڈیموں میں موجود پانی صرف دو ہفتے تک ہی شہر کی ضرورت پوری کر پائے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا