تحریک تحفظِ آئین نے ملک گیر تحریک کی کال دیدی

0
332

اسلام آباد: تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور وائس چیئرمین علامہ ناصر عباس نے ملک گیر تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں علامہ ناصر عباس (نامزد اپوزیشن لیڈر، سینیٹ) اور محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ صورتحال آئینی و جمہوری بنیادوں کے لیے خطرہ ہے اور عوام کے پاس جا کر تحریک چلائی جائے گی۔

علامہ ناصر عباس نے کہا کہ 1971 کے بعد ملک ایک نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے، جمہوری ادارے مفلوج ہو چکے ہیں اور 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف قوم اٹھ کھڑی ہو۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ رات ساڑھے آٹھ بجے سب ایک نعرہ لگائیں: “ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا”۔ علامہ ناصر عباس نے کہا کہ مرد و زن، ہر جگہ اور ہر پیر کو پاکستان اور دستور کا نعرہ بلند کرنا ہوگا۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئین ریاست اور عوام کے درمیان عمرانی معاہدہ ہے اور آئین سے کھلواڑ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں آئین کے تحفظ کا پانچ بار حلف دلایا گیا اور اب پارلیمنٹ اور آئین پر حملے کے خلاف عوامی تحریک شروع کی جا رہی ہے۔ اچکزئی نے اپیل کی کہ وطن دوستانہ جماعتیں، شخصیات اور گروہ اٹھ کھڑے ہوں اور تحریک کی حمایت کریں۔

محمود خان اچکزئی نے اعلان کیا کہ ملک گیر تحریک بالکل پرامن انداز میں اور ہر شب و روز ایک نئے نعرے کے ساتھ جاری رہے گی۔ ان کے بقول تحریک کا ہدف آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی مضبوطی اور قیدیوں کی رہائی کے مطالبات ہوں گے، اور ان کا نعرہ ہوگا: “جمہوریت زندہ باد، آمریت مردہ باد”۔

تحریک تحفظِ آئین نے کہا ہے کہ احتجاج کا دائرہ کار وسیع ہوگا اور آئندہ مرحلے کی حکمتِ عملی جلد عوام کے سامنے رکھی جائے گی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا