یروشلم — اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے کہا ہے کہ وہ 2014 کی غزہ جنگ میں ہلاک ہونے والے افسر لیفٹیننٹ ہدار گولڈن کی باقیات ہر صورت واپس لائیں گے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی میڈیا نے یہ رپورٹ کیا کہ حماس نے مبینہ طور پر گولڈن کی لاش کا مقام معلوم کر لیا ہے۔
فوجی حکام کے مطابق، جنرل زامیر نے ہفتے کی شام گولڈن کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور انہیں تحقیقات کی تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا۔ فوج کے بیان میں کہا گیا کہ چیف آف اسٹاف نے ہدار گولڈن سمیت تمام شہید قیدیوں کی واپسی کے عزم کو دہرایا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے حماس اور ریڈ کراس کو اجازت دی تھی کہ وہ اسرائیلی کنٹرول والے علاقے میں لاش کی تلاش کا عمل مکمل کریں۔ بعض اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گولڈن کی باقیات جنوبی شہر رفح کی ایک سرنگ سے ملی ہیں، تاہم نہ اسرائیلی فوج اور نہ ہی حماس نے اس کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔
یاد رہے کہ ہدار گولڈن یکم اگست 2014 کو اُس وقت ہلاک ہوئے تھے جب 72 گھنٹے کی انسانی بنیادوں پر جنگ بندی نافذ تھی۔ وہ اُس یونٹ کا حصہ تھے جو غزہ میں حماس کی سرنگیں تباہ کرنے کا کام انجام دے رہی تھی۔ اچانک حملے میں وہ مارے گئے اور ان کی لاش حماس کے قبضے میں چلی گئی۔
اسی جنگ میں ہلاک ہونے والے ایک اور اسرائیلی فوجی، اورون شاؤل، کی باقیات رواں سال غزہ جنگ کے دوران برآمد ہوئی تھیں۔
ماضی میں دونوں فوجیوں کی باقیات کے تبادلے کے لیے کی گئی مذاکراتی کوششیں کئی بار ناکام ہو چکی ہیں۔ اسرائیل اب امریکی ثالثی میں جاری جنگ بندی معاہدے کے تحت گولڈن کی باقیات واپس لانے کی کوشش کر رہا ہے۔






