اسلام آباد اور راولپنڈی میں چینی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور ضلعی انتظامیہ سرکاری نرخ پر عملدرآمد کرانے میں مکمل ناکام نظر آ رہی ہے۔ سرکاری قیمت 179 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں چینی 210 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے جبکہ شہر بھر میں سرکاری نرخ پر چینی کہیں دستیاب نہیں۔
مارکیٹ میں بیرونِ ملک سے درآمد کی گئی باریک پاؤڈر نما چینی بھی لائی گئی ہے، مگر خریداروں نے اسے قبول کرنے سے گریز کیا ہے۔ کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے مطابق اگر انہیں 173 روپے فی کلو تھوک ریٹ پر چینی فراہم کی جائے تو وہ سرکاری نرخ 179 روپے پر فروخت کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ انتظامیہ یہ واضح کرے کہ کون سا ہول سیل ڈیلر 173 روپے میں چینی فراہم کر رہا ہے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں انہیں 187 روپے فی کلو کے حساب سے چینی ملتی ہے جبکہ 12 روپے فی کلو اضافی اخراجات بھی شامل ہیں، جن میں ٹرانسپورٹ اور لوڈنگ/اَن لوڈنگ شامل ہے۔
تاجروں کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں حالیہ اضافے سے ٹرانسپورٹیشن مزید مہنگی ہو گئی ہے، جس کے باعث پیر 17 نومبر سے چینی سمیت دالوں کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔






