حکام کے مطابق کراچی کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں ایک 18 سالہ نوبیاہتا لڑکی مردہ حالت میں پائی گئی، جبکہ پولیس نے تفتیش کے لیے اس کے رشتہ داروں کو مشتبہ طور پر حراست میں لے لیا ہے۔
ساؤتھ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل سید اسد رضا کے مطابق لڑکی کی شادی ملیر چھاؤنی میں تعینات ایک سرکاری ملازم سے ہوئی تھی اور وہ فیز فائیو کے بدر کمرشل ایریا میں ایک عمارت کی چھت پر مردہ پائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑکی کے گلے میں دوپٹہ دو مرتبہ لپٹا ہوا تھا۔
لڑکی کو پہلے ڈی ایچ اے کے ایک نجی کلینک اور پھر کلفٹن کے ہسپتال لے جایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد لاش کو قانونی کارروائی کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کر دیا گیا۔
جوڑا دو ہفتے قبل سیالکوٹ سے کراچی آیا تھا اور وہ بدر کمرشل میں لڑکی کی خالہ کے گھر مقیم تھا۔ پولیس کے مطابق لڑکی مبینہ طور پر پیر کی شام چھت پر گئی اور واپس نہ آئی۔ خالہ نے اوپر جا کر اسے پانی کے ٹینک کے قریب بے ہوش پایا، اور اس کے گلے میں دوپٹہ پڑا ہوا تھا۔
متوفیہ کے والد نے، جو خود بھی سرکاری ملازم ہیں، جے پی ایم سی پہنچ کر الزام عائد کیا کہ یہ گلا دبا کر قتل کرنے کا واقعہ ہے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق خالہ کے بیٹے کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تفصیلات کے لیے میڈیکل رپورٹ کا انتظار ہے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے بتایا کہ انہیں جنسی تشدد کا شبہ ہے اور تمام ضروری نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق موت کی وجہ گردن کا دبنا ہے۔






