الفاشر شہر مکمل طور پر ایک قتل گاہ کا منظر پیش کر رہا ہے، جہاں سیٹلائٹ تصاویر اور عینی شاہدین کے مطابق آر ایس ایف اجتماعی قبروں میں افراد کی لاشیں دفن کر رہی ہے۔
اکتوبر میں آر ایس ایف نے الفاشر شہر پر قبضہ کیا تھا، جس کے بعد سے یہ علاقہ شدید انسانی بحران کا مرکز بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی حکام کا کہنا ہے کہ آر ایس ایف کے حملوں میں اغوا، تشدد اور جنسی جرائم بھی شامل ہیں۔ اس صورتِ حال کے بعد اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل نے شہر میں ہونے والے مظالم کی باضابطہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
آر ایس ایف نے شہریوں پر حملوں کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے ذمہ داری سوڈانی فوج پر ڈال دی ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے الفاشر تک امدادی سرگرمیوں اور رسائی میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ متاثرہ لوگوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔
شدید لڑائی اور عدم تحفظ کے باعث ایک لاکھ سے زائد شہری الفاشر شہر چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ لوگ قریبی شہروں اور امدادی کیمپوں میں پناہ لے رہے ہیں، جہاں بھیڑ اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔






