پاکستانی معیشت پر عالمی سرمایہ کاروں اور اداروں کا اعتماد بحال ہونے لگا ہے، جس کا واضح ثبوت پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں غیر معمولی تیزی ہے۔ مارکیٹ میں یہ اعتماد ملکی قیادت کے ویژن، معاشی اصلاحات اور بہتر گورننس کی وجہ سے بڑھا ہے۔
عالمی جریدہ بلوم برگ کے مطابق پاکستان میں چھوٹے سرمایہ کاروں نے 2025 میں اسٹاک مارکیٹ میں 40 فیصد اضافہ کیا، جس نے پاکستان کو ایشیا کی بہترین مارکیٹ کے طور پر پیش کیا۔ ستمبر میں 36 ہزار سے زائد نئے ٹریڈنگ اکاؤنٹس کھولے گئے اور اکتوبر میں روزانہ تجارتی حجم 200 ملین ڈالر تک پہنچ گیا، جو 2017 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
اسٹاک مارکیٹ میں یہ تیزی برسوں کی سیاسی بے یقینی کے بعد معیشت کے درست سمت میں آگے بڑھنے کا ثبوت ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل اور فِچ ریٹنگز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری دی ہے، جسے مالی نظم و ضبط اور حکومتی اصلاحات پر عالمی اعتماد کا اظہار سمجھا جا رہا ہے۔
بلوم برگ کے مطابق امریکا کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری میں پاکستان کی عسکری قیادت نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ سویڈن کی کمپنی ٹنڈرا فاؤنڈر اے بی کے سی ای او میٹیاس مارٹنسن نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور اسٹیٹ بینک کی شفاف پالیسیوں نے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سنہری مواقع فراہم کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کی یہ مضبوط کارکردگی پاکستان کو آنے والے برسوں میں علاقائی معاشی مرکز بنانے کی سمت اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔






