طلبا کی شکایات، 17 نجی سکولز کو شوکاز نوٹس جاری

0
692

ملک میں نجی اسکولوں کے لوگو والی نوٹ بکس، ورک بکس اور یونیفارم کی مشروط فروخت کے معاملے پر کمپٹیشن کمیشن نے 17 بڑے نجی اسکول سسٹمز کو شوکاز نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب کمیشن کو والدین اور طلبہ کی جانب سے متعدد شکایات موصول ہوئیں کہ انہیں اسکول کے مقررہ وینڈرز سے مہنگی اسٹیشنری اور یونیفارمز خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

کمپٹیشن کمیشن نے شکایات کی بنیاد پر سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے تفصیلی انکوائری کی۔ رپورٹ کے مطابق اسکول سسٹمز اپنی ملک بھر میں موجود ہزاروں برانچوں اور فرنچائزز کے ذریعے لاکھوں طلبہ کو صرف اسکول کے منظور شدہ وینڈرز سے مہنگی لوگو والی نوٹ بکس، ورک بکس اور یونیفارمز خریدنے پر مجبور کرتے ہیں۔ والدین کے لیے کھلے بازار سے نسبتاً سستی اور معیاری اشیا خریدنے کا اختیار موثر طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

انکوائری میں یہ بھی سامنے آیا کہ کئی اسکولوں میں لازمی اسٹڈی پیکس آن لائن پورٹلز یا مخصوص دکانوں کے ذریعے فروخت کیے جاتے ہیں، اور طلبہ کو عام بازار سے خریدی گئی اشیا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ متعدد اسٹڈی پیکس کی قیمتیں مارکیٹ میں موجود یکساں اشیا کے مقابلے میں 280 فیصد تک زیادہ پائی گئیں، جبکہ مخصوص وینڈرز کے تقرر سے چھوٹے کاروباروں اور اسٹیشنری فروشوں کے لیے مارکیٹ شدید محدود ہو جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسکول اس عمل کو ’مشروط فروخت‘ کے طور پر نافذ کرتے ہیں جو کہ کمپٹیشن قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ طلبہ اور والدین محدود تعلیمی متبادلات، زیادہ منتقلی لاگت اور سفر کی رکاوٹوں کے باعث مجبور ہوتے ہیں کہ اسکول کے تجارتی فیصلوں کو قبول کریں، جس کے نتیجے میں وہ ’یرغمال صارفین‘ بن جاتے ہیں۔

کمیشن نے بیکن ہاؤس، سٹی اسکول، لاہور گرامر اسکول، روٹس، فروبلز، الائیڈ اسکولز، کے آئی پی ایس اور دیگر بڑے اسکول سسٹمز کو شوکاز نوٹسز جاری کیے ہیں۔ یہ ادارے ملک بھر میں سینکڑوں کیمپسز چلاتے ہیں اور وسیع تعداد میں طلبہ پر اثرانداز ہوتے ہیں جس کے باعث ان کے پاس نمایاں مارکیٹ پاور موجود ہے۔

کمیشن نے تمام اسکول سسٹمز کو 14 دن کے اندر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ مقررہ وقت پر جواب نہ دینے کی صورت میں یک طرفہ کارروائی کی جائے گی، جبکہ قانون کے تحت سالانہ ٹرن اوور کے 10 فیصد یا 750 ملین روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا