لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ حالیہ ضمنی انتخابات الیکشن نہیں بلکہ ایک ریفرنڈم تھے جن میں مسلم لیگ ن نے واضح کامیابی حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ “قیدی نمبر 804 کو گھر میں گھس کر شکست دی، جب عوام ساتھ ہوں تو الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کیا جاتا۔”
صوبائی وزراء اور سیکرٹریوں کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کبھی ایسی منافقت نہیں دیکھی کہ ہار گئے تو فوراً بائیکاٹ کا راگ الاپ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آج عالمی میڈیا بھی لکھ رہا ہے کہ “پنجاب جادو ٹونے پر چلتا تھا، جادو ٹونا صرف کچھ دیر کیلئے کام کرتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ “آج وہی لوگ ملاقات کیلئے روتے ہیں۔ میری بیٹی 13 سال کی تھی، اس سے بھی ملاقات نہیں کرائی جاتی تھی۔”
مریم نواز کا کہنا تھا کہ انہیں نوازشریف سے ہفتے میں صرف 20 منٹ ملتے تھے، انہیں اپنی والدہ کے انتقال کی خبر بھی جیل میں ملی لیکن پھر بھی انہوں نے کبھی الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کیا۔ ان کے مطابق “پی ٹی آئی والے آج اپنے اعمال کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ “ملک پر حملہ کرنے والوں کے گلے میں پھولوں کے ہار نہیں ڈالے جاتے۔ آپ نے توڑ جوڑ کرکے الیکشن جیتے، لوگوں کی پگڑیاں اچھالیں، کسی نے کچھ نہیں کہا۔ جس دن آپ نے ملک پر حملہ کیا، اسی دن آپ کا ڈاؤن فال شروع ہوگیا۔”
انہوں نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کرپشن کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔ “صرف بیانیے سے پیٹ نہیں بھرتے، پرفارمنس بھی دکھانا پڑتی ہے۔ پورا خیبرپختونخوا پتھر کے زمانے میں چلا گیا ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ عوام کی بہتری کے لیے خیبرپختونخوا کے لیے بھی وسائل اور دل کے دروازے کھول رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہری پور میں عوام نے نواز شریف کے نام پر ووٹ دیا۔
“کوئی بھی مقبول لیڈر الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کرتا، بیانیہ بنتا ہے بنایا نہیں جاتا۔”
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے حکومت ختم ہونے پر ملک پر حملہ کیا، اسی لیے وہ اسے مجرم ہی کہیں گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پرفارمنس سے بہتر کوئی بیانیہ نہیں ہو سکتا۔ “پی ٹی آئی دور میں پوری ریاستی مشینری ن لیگ کے خلاف تھی، اب پنجاب میں بائیکاٹ کیا اور خیبرپختونخوا میں الیکشن لڑے، مگر وہاں بھی انہیں عبرتناک شکست ہوئی۔”
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے قیدی نمبر 804 کے نام پر الیکشن لڑا لیکن شکست ہوئی۔ “ضمنی الیکشن کی یہ جیت نواز شریف اور پنجاب و خیبرپختونخوا کے عوام کے نام کرتی ہوں۔”






