اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنا مفصل جواب جمع کراتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے اور اس حوالے سے کی جانے والی تمام قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے مطابق، عمران خان جیل میں سخت نگرانی کے تحت ہیں اور ان کے پاس موبائل فون یا کسی بھی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیل کے اندر موبائل فون سگنلز کے لیے جیمر نصب ہیں، جس کی وجہ سے جیل کے اندر اور اس کے اطراف میں موبائل سگنلز مکمل طور پر بند رہتے ہیں۔
جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ عمران خان اور ان پر تعینات سٹاف کو باقاعدگی سے سرچ کیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی ممنوع چیز تک رسائی روکی جا سکے۔ سپرنٹنڈنٹ نے یہ وضاحت بھی کی کہ جیل کے رولز کے مطابق، سیاسی گفتگو یا ہدایات دینا بھی ممنوع ہے، تاہم بعض اوقات جیل میں ملنے والی فیملی اور وکلا سیاسی بحثوں میں ملوث ہو جاتے ہیں، جو جیل کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا کہ ماضی میں عمران خان کی جیل سے دی جانے والی سیاسی ہدایات نے بعض اوقات معاشرتی تناؤ کو بڑھایا، لیکن ان کا ایکس اکاؤنٹ جیل کے اندر سے آپریٹ نہیں ہو رہا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ اکاؤنٹ جیل کے باہر سے کسی نے چلا رکھا ہے اور جیل میں نہ تو موبائل فون دستیاب ہے اور نہ ہی انٹرنیٹ کی سہولت۔






