پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ امن کی بحالی کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بائزئی ضلع مہمند کے عمائدین کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔
وفد کے ارکان نے اس موقع پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اپنا فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا وزیر اعلیٰ بننا تمام قبائلی اضلاع کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ امن اور صوبائی حقوق کے حصول کے لیے وزیراعلیٰ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے قبائلی عمائدین کی غیر متزلزل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ موجودہ وقت میں امن کی بحالی ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امن کی بحالی کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا گرینڈ امن جرگے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس جرگے کا کامیاب انعقاد صوبے میں امن کے قیام کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ جرگے میں شریک تمام سیاسی جماعتوں اور سٹیک ہولڈرز کی طرف سے ایک متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، جس میں امن کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
سہیل آفریدی نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ انضمام کے وقت قبائلی اضلاع کے لیے ایک ہزار ارب روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن یہ وعدہ پورا نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے اربوں روپے کے بقایا جات ابھی تک وفاق کے ذمہ واجب الادا ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ قبائلی اضلاع کے عوام کو ان کا حق دلانے کے لیے حکومت کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ ضم اضلاع میں یونیورسٹیاں، میڈیکل اور نرسنگ کالجز بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ وہاں کے عوام کو بہتر تعلیمی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔






